کورونا سے ملک میں کہیں بھی غذائی قلت پیدا نہیں ہوگی، خسروبختیار

وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسروبختیار نے کہا ہے کہ پاکستان میں 18ٹن گندم کاذخیرہ موجود ہے، کورونا کے باعث ملک میں کہیں بھی غذائی قلت پیدا نہیں ہوگی،دالیں، چاول وافر مقدار میں موجود ہے، بلکہ دالیں اپریل میں مزید سستی ہوجائیں گی۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے پاکستانی اشیاء کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔
پاکستان میں 18ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے، کورونا کے باعث ملک میں کہیں بھی غذائی قلت پیدا نہیں ہوگی۔ پرسوں بدھ سے سندھ پاسکو خریداری شروع کردے گی، ہم نے 82 لاکھ گندم زمینداروں سے خریدنی ہے، جس کی لاگت200 ارب ہے، میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ گندم کے ذخائر بہت وافر ہوں گے، اس لیے آٹے کی وقتی طور پر شاید سپلائی کم ہو۔

لیکن اس کیلئے ہم ابھی سے اقدامات کررہے ہیں۔

عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ ذخیرہ اکٹھا نہ کریں، پاکستان میں70لاکھ ٹن چاول پیدا ہوتا ہے، ہماری ضرورت 35فیصد ہے، اسی طرح دالوں کا اسٹاک ہم امپورٹ کرتے ہیں، دالوں کی مد میں ہمارے پاس اضافی اسٹاک موجود ہیں، کل کراچی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے دالوں کے اسٹاک آئے ان میں دشواری پیش آئی ، سندھ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے فرٹیلائزر کے پلانٹ بند کردیے ہیں ، ہم سندھ حکومت سے درخواست کریں گے کہ ان کو کھول دیا جائے۔
دنیا کی عالمی منڈی میں کورونا وائرس کی وجہ سے اشیاء کی قیمتیں بھی نیچے آرہی ہیں، اب دالیں اپریل میں سستی ہوجائیں گی۔اس لیے ذخیرہ اندوز اس سے اجتناب کریں۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے کل سے 14روز کیلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا، لاک ڈاؤن کے دوران میڈیکل اسٹورز، اشیائے خوردونوش کی دکانیں کھلی رہیں گی، جبکہ شاپنگ مالز بند رہیں گے، فیصلہ کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔
وزیراعلٰی پنجاب نے لاک ڈاؤن کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کل24 مارچ صبح 9بجے سے 6 اپریل تک عوامی مقامات ، بازار اور شاپنگ مالز بند رہیں گے۔ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہوگی۔ تاہم اس کو پنجاب میں کسی قسم کا لاک ڈاؤن یا کرفیو نہ سمجھا جائے۔ عوام سے اپیل ہے کہ اس دوران مکمل تعاون کیا جائے۔ اس عرصے کے دوران میڈیکل اسٹورز، پٹرول پمپس اور اشیائے خوردونوش کی دکانیں کھلی رہیں گی۔