وزیراعظم کا معاشی پیکج‘غریبوں خاندانوں کے لیے3ہزار ماہانہ دینے کا اعلان

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث معاشی سرگرمیوں میں آنے والے تعطل اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مختلف شعبہ جات کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کردیا ہے. حکومت اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی ہے ملک میں فیصلے چھوٹے سے الیٹ طبقے کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں غلط فیصلہ کرکے معاشرے میں تباہی نہیں لانا چاہتے.
انہوں نے اعلان کیا کہ ایکسپورٹ انڈسٹری کو فوری 100 ارب روپے کا ٹیکس ریفنڈ دیں گے، کسانوں کے ان پٹ بڑھانے کے لیے ہم نے اس میں پیسا رکھا ہے، پناہ گاہوں کو مزید پھیلائیں گے کیونکہ موجودہ پناہ گاہوں میں بہت رش دیکھا جارہا ہے.

وزیراعظم نے کہا کہ مکمل لاک ڈاﺅن کرنے سے غریبوں کو کھانا کون فراہم کرے گا، میں اور میری پوری ٹیم حالات کا جائزہ لے رہی ہے.انہوں نے بتایا کہ مزدور طبقے کے لیے 200 ارب روپے مختص کر رہے ہیں، برآمد کنندگان کے قرضوں پر سود ملتوی کر رہے ہیں اور معاشرے کے انتہائی غریب طبقے کے لیے 150ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ہر غریب خاندان کو4 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے.انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام میں طاقتور کے لیے الگ اور مظلوم کے لیے الگ فیصلے آتے ہیں، زیادہ طاقتور لوگ تو چیک اپ بھی باہر سے کرواتے ہیں وزیراعظم نے کہا کہ غریبوں کا خیال کیسے رکھنا ہے یہ سوچنے والی باتیں ہیں کیا ہمارے اتنے وسائل ہیں کہ کچی آبادیوں میں کھانا پہنچا سکیں.وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات پر 15 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان بھی کیا.انہوں نے کہا کہ نچلے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے 150 ارب روپے چار مہینے کے لیے رکھے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ پناہ گاہوں میں اضافہ کریں گے یوٹیلٹی اسٹور کے لیے 50 ارب روپے مزید مختص کیے جائیں گے گندم کی خریداری کے لیے 280 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ کسانوں کے ہاتھ میں پیسہ آئے اور کم سے کم دیہی علاقوں میں حالات قابو میں رہیں.انہوں نے کہا کہ میں اپنے غریبوں کے بارے میں سوچتا ہوں کہ وہ ان حالات میں کہاں سے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے، اٹلی، چین جیسے معاشی حالات ہوں تو کرفیو لگانا آسان اقدام ہے.عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے فیصلے ایک چھوٹی سے ایلیٹ کلاس کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں،کورونا وائرس کے پیش نظر بھی لاک ڈاﺅن کو لیکر عمومی سوچ یہی ہے‘انہوں نے کہا کہ چونکہ مکمل کرفیو لگانے سے نقصان امیر کو نہیں بلکہ کچی بستیوں میں رہنے والے غریبوں کو ہوگا اس لیے کرفیو لاک ڈاﺅن کی آخری سٹیج ہے.وزیراعظم نے بتایا کہ نیشنل سیکیورٹی کے اجلاس کے وقت ملک میں کورونا وائرس کے صرف اکیس کیس تھے لاک ڈاﺅن تو اسی دن سے شروع ہے، اسکولز، کالجز بند کر دیے گئے اور لوگوں کے غیر ضروری اجتماع پر پابندی لگا دی گئی.وزیراعظم نے کہا کہ سب سے زیادہ خطرہ کورونا سے خوف میں آکر فیصلہ کرنے کا ہے, لاک ڈاﺅن کا آخری اسٹیج کرفیو ہے، مکمل لاک ڈاﺅن کرنے سے غریبوں کو کھانا کون فراہم کرے گا، میں اور میری پوری ٹیم حالات کا جائزہ لے رہی ہے.حکومت اقدامات کی تفصیلات سے ا?گاہ کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے ملک میں فیصلے چھوٹے سے الیٹ طبقے کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں غلط فیصلہ کرکے معاشرے میں تباہی نہیں لانا چاہتے ہیں.وزیراعظم نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں15 روپے کی فوری کمی کی گئی ہے، بجلی اور گیس کے بل قسطوں میں ادا کیے جاسکتے ہیں، طبی سامان کے لیے 50 ارب روپے وقف کیا گیا ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیا پر بھی ٹیکس کم کر دیے گیے ہیں.عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے فیصلے ایک چھوٹی سی ایلیٹ طبقے کو دیکھ کر لیے جاتے ہیں، ہمارے تعلیمی اور عدالتی نظام کا بھی یہی حال ہے، کورونا وائرس کے پیش نظر بھی لاک ڈاﺅن کو لیکر عمومی سوچ یہی ہے لیکن مکمل کرفیو لگانے سے نقصان امیر کو نہیں بلکہ کچی بستیوں میں رہنے والے غریبوں کو ہو گا.انہوں نے کہا کہ میں اپنے غریبوں کے بارے میں سوچنا ہے کہ وہ ان حالات میں کہاں سے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے، اگر ہمارے معاشی حالات اٹلی اور چین جیسے ہوتے تو کرفیو لگانا آسان ہوتا وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے نمٹنے کےلیے معاشی پیکیج کا اعلان کردیا، پٹرول اور ڈیزل پر 15روپے فی لٹر کم کردیے.وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مزدوروں کے لیے200 ارب روپے رکھے ہیں، مشکل حالات میں پھنسے خاندانوں کے لیے 150ارب روپے رکھے ہیں،ا ن خاندانوں کو 3ہزار ماہانہ دیں گے.انہوں نے کہا کہ کورونا سے ایکسپورٹ اور انڈسٹری سب سے زیادہ متاثر ہے، ایکسپورٹ انڈسٹری کو 100ارب روپے کے فوری ٹیکس ری فنڈ دے رہے ہیں، چھوٹی صنعتوں اور زراعت کے لیے 100ارب روپے رکھے ہیں وزیراعظم نے مزید کہا کہ بجلی کے 300یونٹ خرچ کرنے والے بل 3ماہ کی قسطوں میں ادا کریں گے، یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے مزید 50ارب روپے مختص کیے ہیں، دالوں سمیت ضروری اشیا پر شرح کم کر رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پناہ گاہیں پھیلارہے ہیں، کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے بعد لوگوں کو پناہ گاہ آنے اور کھانے کی اجازت ہوگی عمران خان نے یہ بھی کہا کہ آج سب سے زیادہ خطرہ کورونا کے خلاف میں غلط خبروں سے ہے، جب 21 کیسز تھے ہم نے اسی وقت لاک ڈاﺅن کردیا تھا.انہوں نے کہا کہ اس وقت ضروری یہ ہے کہ افراتفری نہیں پھیلائی جائے مجھ سے اس وقت میڈیا کی بات نہ کریں، کورونا کی بات کریں، جس طرح کی میڈیا آزادی پاکستان میں ہے چیلنج کرتا ہوں کہ مغرب میں بھی حاصل نہیں.وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کی قسمیں ہیں اور آخری قسم کرفیو ہے، ہم ملک بھر میں کرفیو کے متحمل نہیں ہوسکتے، کیا ہم کچی آبادیوں میں کھانا پہنچاسکتے ہیں.انہوں نے کہا کہ چین سے ایک مریض نہیں آیا، ایران کے پاس وسائل نہیں تھے، ڈاکٹر ظفر مرزا یہاں سے تفتان گئے اور وہاں جائزہ لیا، وہاں کچھ تھا ہی نہیں، اس ویرانے میں ہم تیاری کرلیتے یہ بہت مشکل تھا، ہم باقی دنیا سے بہت بہتر ہیں.عمران خان نے کہا کہ جتنی تیزی سے ہم نے کام کیا چیلنج کرتا ہوں کہ کسی ملک میں اگر ایسا ہوا ہو تو بتائیں، 18ویں ترمیم کے بعد صوبے فیصلوں میں خود مختار ہیں، وفاق صرف مشورہ دے سکتا ہے.عمران خان نے کہا کہ میں اگر اٹلی یا فرانس میں ہوتا تو کرفیو لگا دیتا، ٹرانسپورٹ بند کرنے سے سپلائرز کا مسئلہ آتا ہے، ہمیں کل پتہ چلا کہ کراچی میں پورٹ بند ہونے سے جو جہاں ہیںوہیں رک گئیں.انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم سب کو ایک ہفتے بعد اس کا جائزہ لینا ہے، اگر ہمیں کرفیو بھی لگانا پڑے تو اس کی بھی تیاری کرنا پڑے گی، یہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا میچ نہیں ہوسکتا ہے کہ یہ صورتحال 6ماہ چلے .قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا جس میں معاشی پیکج کی منظوری دی گئی‘ذرائع کے مطابق اجلاس میں معاون خصوصی ثانیہ نشتر کو اہم ذمہ داری سونپ دی گئی ہے اِس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت مشکل وقت میں مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کے ساتھ کھڑی ہے.وفاقی وزیر برائے قومی تحفظ خوراک خسرو بختیار نے کہا کہ حکومت نے معیشت کے مختلف شعبہ جات کو کورونا وائرس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار کردہ ریسکیو پیکج کا تخمینہ 11 کھرب 60 ارب روپے یعنی ملک کی مجموعی ملکی پیداوار کا 2.7 فیصد لگایا ہے.انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام اشیائے خورو نوش کا اطمینان بخش ذخیرہ موجود ہے ‘ ایک حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو خوراک اور شعبہ طب سے متعلق 61 اشیا پر ٹیکس میں کمی کی ہدایات کی گئی ہے وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک پاکستان کے ساتھ مشاورت کر کے برآمداتی صنعتوں کی سپورٹ کرنے کے لیے بھی ریلیف کا منصوبہ بنایا گیا ہے کیوں کہ برآمداتی آرڈرز ان کے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کے ملازمین متاثر نہ ہوں.عہدیدار نے کہا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمت کم ہونے سے حکومت کے پاس بچت کی رقم موجود ہے جس کا ایک بڑا حصہ قیمتوں میں کمی کر کے عوام تک پہنچایا جائے گا تاہم تیل کی قیمتوں سے ہونے والی بچت کے مکمل اثرات صارفین تک لیکویڈیٹی چیلنجز کے باعث نہیں پہنچائے جاسکتے اور ایک حصہ حکومت کے پاس ہی رہے گا.

دوسری جانب دیگر وزارتوں کی طرح وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بھی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے صوبائی حکومتوں اور کاروباری افراد کے ساتھ مشاورت کی اجلاس میں مشیر خزانہ نے کہاکہ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات نے اجلاس کے اراکین کو بتایا کہ حکومت کو درپیش چیلنجز اور اس صورتحال میں حکومت نے تین چیزوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے جس میں کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنا، اس کے ساتھ عوام کو صحت عامہ کی سہولیات، مناسب قیمت پر ضروری اشیاءخورد و نوش کی فراہمی اور تاجر برادری کو معاونت فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ اس بحرانی دور میں عوام کے پاس مناسب نقد رقم اور تاجر برادری کو کاروبار چلانے میں آسانی ہو اور وبا کے دنوں میں معیشت کو نقصان نہ پہنچے.اس حوالے سے سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے وزارت داخلہ سندھ کو تجاویز دیدی ہیں لہٰذا خوراک کی صنعت کو بدستور کھلا رکھا جائے گا تاکہ کاروبار معمول کے مطابق چلتا رہے اور جہاں بھی کوئی مشکل پیش آئے گی، وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کاروبار چلانے اور تاجر برادری کو سہولیات فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی.وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ تاجر برادری کو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ بحران کے اس دور میں ان کی امداد ہم سب کی سماجی ذمہ داری ہے.پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک خسرو بختیار نے کہا کہ ملک میں ضرورت کے مطابق تمام اجناس او اشیا خورونوش کے ذخائر موجود ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت اٹھارہ لاکھ ٹن گندم دستیاب ہے اور بدھ کے روز سے سندھ میں پاسکو اور سندھ حکومت کی جانب سے خریداری شروع ہوجائے گی.وفاقی وزیر نے کہا کہ رواں سال حکومت نے 82 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کا ہدف مقرر کیا ہے جس پر 288 ارب روپے کی لاگت آئے گی جبکہ گزشتہ سال 40 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی گئی تھی انہوں نے بتایا کہ ملک میں 70 لاکھ ٹن چاول کی پیداوار ہوتی ہے، پاکستان کی ضرورت 35 لاکھ ٹن ہے، پاکستان زیادہ تر دالیں درآمد کر رہا ہے تاہم ملکی پیداوار بھی حاصل ہوتی ہے، چنے کا 8 ماہ تک کا اسٹاک ملک میں دستیاب ہے اور مجموعی طور پر ملک میں 2 ماہ کے لیے دالوں کا اسٹاک بھی موجود ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں