کراچی چیمبرکاوزیر اعظم کے مالیاتی ریلیف پیکیج کا خیر مقدم

چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کراچی چیمبرکے سراج قاسم تیلی اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر آغا شہاب احمد خان نے کرونا وائرس کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تقریباً 1200ارب روپے کے وزیر اعظم کے مالیاتی ریلیف پیکیج کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاشبہ یہ بہت ہی اچھا اقدام ہے تاہم اس پیکیج کو نافذ کرنے کے لئے مؤثر حکمت عملی وضع کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ معاشرے کے غریب اور مستحق طبقے بشمول مزدورں، دیہاڑی پر کام کرنے والوں اور ریڑی چلانے والوں وغیرہ کے درمیان بلاتعطل مالی امداد کی منتقلی کو یقینی بنایا جاسکے۔
بدھ کے روز جاری ایک مشترکہ بیان میں سراج تیلی اور آغا شہاب نے کہاکہ وہ ہزاروں مزدورں، دیہاڑی پر کام کرنے والوں اور ریڑھی بانوںکے لئے بہت زیادہ فکرمند ہیں جن کا نہ تو وزیر اعظم کے احساس پروگرام میں اندارج ہوا ہوگا اور نہ ہی ایسے ورکرز صنعتوں سے منسلک ہیں کیونکہ بیشتر صنعتیں ان کی خدمات بیرونی ذرائع سے ٹھیکے پر حاصل کرتی ہیں لہٰذا حکومت کو تاجر و صنعتکار برادری کی مشاورت سے مؤثر مکینزم متعارف کرانا ہی ہو گا تاکہ جان لیوا کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے موجودہ مشکل ترین حالات میں ہمارے غریب اور پریشان حال بھائیوں اور بہنوں کو فوری طور پر مالی امداد ملنا شروع ہوجائے۔

انھوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ 1200ارب روپے کے مالیاتی ریلیف پیکیج کے نفاذ کے حوالے سے جو بھی حکمت عملی اور طریقہ کار اختیار کیا جانا ہے اس کی تمام تر تفصیلات کی تشہیر کی جائے اور یہ تفصیلات تمام چیمبرز، ٹریڈ ایسوسی ایشنز و متعلقہ افراد کو بھی فراہم کی جائیں۔چیئرمین بی ایم جی اور کے سی سی آئی کے صدر نے تمام تاجروں و صنعتکاروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے غریب ورکرز کو مکمل سپورٹ کریں، انہیں تنہا ہر گز نہ چھوڑا جائے اور اس بات کی یقینی بنایا جائے کہ کوئی ایک بھی ورکر یا اس کے خاندان کا کوئی ایک بھی فرد لاک ڈائون کے دوران بھوکا نہ رہے ۔
ہم سب پر سماجی، اخلاقی اور مذہبی اعتبار سے یہ لازم ہے کہ اس کٹھن وقت میں ہم غریبوں کی مدد کریں جو کرونا وائرس کی پھیلتی وبا کی وجہ سے دال روٹی کمانے کے لئے اپنے گھروں سے باہر آنے سے قاصر ہیں لہٰذا ہمیں مکمل یکجہتی اور اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی ضرورت اور اپنی سکت کے مطابق انہیں تمام تر اشیاء خوردونوش اور راشن فراہم کرنا ہی ہوگا۔
انہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود مزید150بیسس پوائنٹس کمی سی11فیصد کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اگرچہ سود میں کمی کرنے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن اسے مزید کم کرتے ہوئے 9فیصد کے سنگل ڈیجٹ پر لانا چاہیے تھا چونکہ دنیا بھر کے ممالک نے شرح سود میں کمی کی ہے اور کئی ملک عالمی مندی کی وجہ سے صفر بلکہ حتیٰ کہ منفی شرح پر آچکے ہیں۔
انہوںنے کہاکہ ہماری رائے میں زائد شرح سود وزیراعظم کے مالیاتی ریلیف پیکیج پر حاوی ہورہاہے لہٰذا بہتر ہوگا کہ اسے سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے تاکہ حقیقی معنوں کے اس کے ثمرات پہنچ سکیں ۔ وزیراعظم کی مالیاتی ٹیم کو آئی ایم ایف کی فکر کرنا چھوڑنا چاہیے اور مالی استطاعت یا گنجائش سے قطع نظر ہو کر ریلیف کا اعلان کرنا چاہیے اور ساتھ ہی کرونا وائرس کی وجہ سے ایمرجنسی کے حالات کے عین مطابق ریلیف دینے کی اشد ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں