اگر پاکستان ایران سے اپنے لوگوں کو نہ نکالتا تو اُن کی جانوں کو خطرہ تھا

سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا اپنے کالم میں کہنا ہے کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ایران سے آنے والوں پر ہی سب معاملہ بگڑا ہے ورنہ اب تک سب خاموش اور آرام سے بیٹھے تھے۔سوال یہ ہے کہ جو لوگ ایران یا دوسرے ممالک سے واپس آنے والوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں یا جنہوں نے ان کو بغیر ٹیسٹ اور قرنطینہ کے اپنے اپنے گھروں میں بھیج دیا وہ سچے ہیں.؟ یقینا یہ معاملہ بہت ناساز ہے کیونکہ وہ لوگ جو ایران کے شہروں میں زیارت کرنے گئے تھے ان کے لیے خطرات پیدا ہوگئے تھے۔
ایران کے شہر قم میں وائرس پھیل گیا تھا۔ان کو خطرہ تھا کہ وہ کہیں شکار نہ ہوجائیں۔چند ذمہ دار لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستانیوں کی جانوں کو خطرات بھی لاحق ہو گئے تھے کیونکہ ایران میں یہ بات پھیلنا شروع ہو گئی تھی یہ وائرس دراصل پاکستانی ہی لے کر آئے ہیں۔

ایران میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان میں یہ وائرس چین سے آیا اور وہاں سے یہ زیارت کے لئے آنے والوں کے ذریعے ایران پہنچا۔

اب ایرانی حکام بھی یقینا کوئی بہانہ تلاش کر رہے ہونگے کہ وہ اپنے ملک میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کا کوئی جواز پیش کریں۔یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان ایران سے اپنے لوگوں کو نہ نکالتا تو ان کی جانوں کو خطرہ تھا کیونکہ وہاں اشتعال پھیل رہا تھا۔ دوسری جانب ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ جب چین سے پاکستانی طالب علم نہیں لائے گئے تو پھر ایران کی سرحد کھول کر پاکستانیوں کو اندر کیوں آنے دیا گیا۔
میرے خیال میں زیارت کے لئے جانے والوں کو ہرگز نہیں روکنا چاہیے تھا۔وہ پاکستانی ہیں اور یہ ان کا حق تھا کے وہ مشکل میں ہیں تو وطن واپس لوٹیں۔اسی طرح عمرے سے بھی لوگ واپس آرہے ہیں اور اب پتہ چلا ہے کہ جو لوگ عمرے پر گئے ان میں وائرس پایا گیا ہے اب سوال یہ ہے کہ کس کا قصور ہے۔بظاہر سارا قصور حکومت کا ہی بنتا ہے کیونکہ جب 15 جنوری کو پتہ چل چکا تھا کہ پاکستان میں وائرس آسکتا ہے تو فوری طور پر اقدامات نہیں کیے گئے۔