دیار غیر میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس نہ لانا بے رحمی ہے: میاں زاہد حسین

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ، ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپس نہ لانا بے رحمی ہے۔وطن واپس آنے کے خواہشمند تمام افراد کو لانے کے لئے خصوصی انتظامات کئے جائیں اور ائیرپورٹ پر سکریننگ کے بعدانھیں گھر جانے دیا جائے تاکہ انکے پریشان حال خاندان سکھ کا سانس لے سکیں۔
جن ممالک میں کورونا کی وباء بے قابو ہے وہاں مقیم پاکستانیوں کی واپسی کو ترجیح دی جائے۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ دیار غیر میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے وسائل ختم ہو رہے ہیں اور انکی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

کئی ممالک میں لاک ڈاؤن ہے جبکہ متعدد شہروں میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ادھر کئی ممالک میں ہمارا سفارتی عملہ بھی ان سے تعاون نہیں کر رہاہے۔

انکی دیکھ بھال، کھانے پینے، رہائش کے انتظامات اور انھیں انکے گھروں تک پہنچانے کا انتظام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جس سے صرف نظر نہ کیا جائے۔پاکستان نے 21 مارچ کو فضائی آپریشن بند کر دئیے تھے مگر بعد ازاں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پھنسے ہوئے غیر ملکیوں کو واپس بھجوانے کے لئے خصوصی فلائٹس کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ یہ جہاز غیر ملکیوں کو انکے وطن میں چھوڑنے کے بعد خالی واپس آئیں گے جبکہ انہی جہازوں میں وہاں پھنسے ہوئے طلباء اور بزنس مینوں کا واپس لایا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس نے عالمی اور ملکی سطح پر معیشت کو بھی تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ہے۔اس سے پاکستان میں سطح غربت سے نیچے رہنے والوں کی تعداد دگنی ہو رہی ہے مگر اس سلسلہ میں حکومتی اقدامات حالات اورتوقعات کے مطابق نہیں ہیں۔ موجودہ عالمی صورتحال بارہ سال قبل آنے والے مالی بحران سے کہیں زیادہ خراب اثرات کی حامل ہے جس سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر میں زبردست جدوجہد کی جا رہی ہے مگر یہاں صورتحال مختلف ہے۔
حکومت نے غریب افراد کے لئے مجموعی طور پر ساڑھے تین سو ارب روپے ریلیف کے لئے مختص کئے ہیں۔ غریب خاندانوں اور دیہاڑی کرنے والوں کے لئے ماہانہ مختص رقم اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ انھوں نے کہا کہ پٹرولیم کی قیمت میں کمی مذاق جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں جو حیران کن ہے۔