وفاقی حکومت نے گڈز ٹرانسپورٹ کل سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا

حکومت نے گڈز ٹرانسپورٹ کل سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صوبوں کے تعاون سے اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائیں گے، ذخیرہ اندوزی کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور عوام کو اشیائے خوردونوش کی فراہم یقینی بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوام تک اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کل سے گڈز ٹرانسپورٹ کھول دی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسی صورت اشیائے خوردونوش کی قلت نہیں ہونی چاہیے۔صوبوں کے تعاون سے اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائیں گے، ذخیرہ اندوزی کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

مزید برآں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلاس میں عوام پر گیس کی مد میںکسی قسم کا اضافی بوجھ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیراعظم نے آئی ایم ایف معاہدہ کے تحت گیس کی قیمتیں بڑھانے کے عمل کو مؤخر، گیس کی قیمتوں میں استحکام کیلئے سوئی سدرن اور ناردرن گیس کمپنیز گراس کٹنگ، کفایت شعاری مہم اور گیس چوری کے حوالہ سے بروقت اور مؤثر اقدمات کو یقینی بنانے کی ہدایات دیں، دونوں سوئی گیس کمپنیاں معاشی ریلیف پیکیج پر عملدرآمد کیلئے فوری طور پر عوامی سہولت مراکز قائم کریں۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق ویڈیو پیغام کے ذریعے اجلاس بارے تفصیلات سے متعلق میڈیا کو آگاہ کر رہی تھیں۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کابینہ توانائی کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے۔
اجلاس میں عام صارفین کی مشکلات، مسائل اور ان کے تدارک کیلئے جامع حکمت عملی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے وزیر توانائی کو ہدایات دی ہیں کہ صارفین پر گیس کی قیمتوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے اس کیلئے قیمتیں بڑھنے کا آئی ایم ایف معاہدے کے تحت گیس کی قیمتیں بڑھانے کا عمل مؤخر کیا جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت دی کہ پہلے سے گیس کی قیتموں کے حوالے سے عوام پر بوجھ کم کیا جائے، گیس کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے سوئی سدرن گیس لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی ناردرن گیس لمیٹڈ (ایس ایس جی پی ایل) اپنی اپنی کمپنیوں میں گراس کٹنگ کو یقینی بنانے کے ساتھ کفایت شعاری اور گیس چوری کے حوالے سے برقت اور مؤثر اقدام یقینی بنائیں۔