کرونا وائرس امریکا کا 28سال بعد اب تک کا بڑا نقصان، مہلک وباءامریکہ کی جڑوں میں بیٹھ گئی ، جس سپیڈ سے یہ پھیل رہی ہے کیا ہو سکتا ہے؟ ماہرین نے چونکا دینے والے انکشافات کر دیئے

کرونا وائرس کے پھیلا نے لوگوں سے ان کا روزگار چھیننا شروع کر دیا ہے۔ 1982 کے بعد امریکہ میں پہلی بار بے روزگاروں کی تعداد 33 لاکھ کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ کرونا وائرس کے باعث کاروباروں کی بندش ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق رواںہفتے امریکہ میں بے روزگاری الانس کے لیے 32 لاکھ 28 ہزار 300 لوگوں نے لیبر ڈپارٹمنٹ میں اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔بے روزگار ہونے والے درخواست گذار افراد کی تعداد ماضی کے مقابلے میں پانچ گنا بڑھ چکی ہے جب کہ اس میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔کرونا وائرس جس

تیزی سے پھیل رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ اس تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ کیونکہ امریکہ بھر میں ریستوران، ہوٹل، سینما گھر اور ایئر لایئنز بند ہیں اور ان شعبوں میں کام کرنے والے لاکھوں کارکن اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ کئی کمپنیوں نے اپنے جزوقتی ملازموں کو نکال دیا ہے اور بہت سے کل وقتی ملازمین بھی چھانٹی کی زد میں آ گئے ہیں۔بعض ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ بے روزگاری کی شرح 13 فی صد سے اوپر جا سکتی ہے، جو 2009 کی کساد بازاری کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گی۔ اس دور میں یہ سطح 10 فی صد تھی۔فروری کے دوران امریکہ میں بے روزگاری کی شرح صرف ساڑھے تین فی صد تھی جو گزشتہ 50 برس کے دوران بے روزگاری کی کم ترین سطح تھی اور معیشت مسلسل ترقی کر رہی تھی۔اقتصادی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اپریل تا جون کی سہ ماہی میں ملک میں بے روزگاری کی سطح 30 فی صد سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔وفاقی حکومت کے نئے امدادی پیکیج کی کانگریس سے منظوری کے بعد بے روزگار افراد کو اضافی امداد کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔جبکہ امریکہ میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تصدیق شدہ تعداد 70 ہزار کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے، جب کہ اس بارے میں ایک تازہ ترین سروے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لاکھ سے زیادہ امریکی اس عالمی وبا میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق امریکہ بھر میں کرائے گئے سروے میں 2 اعشاریہ 3 فی صد امریکیوں نے کہا کہان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اگر اس تعداد کو سامنے رکھا جائے تو 30 کروڑ سے زیادہ آبادی کے ملک میں یہ گنتی لاکھوں میں پہنچ جاتی ہے۔تاہم سروے میں شامل لوگوں کے دعوے کی درستگی کی تصدیق مشکل ہے، کیونکہ امریکہ میں ابھی تک مطلوبہ مقدار میں ٹیسٹ کٹس دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ نتائج ٹیسٹ کٹس کے ہیں، یا انہوں نے علامتوں کی بنیاد پر یہ نتائج اخذ کیے ہیں،یا ان کے ذرائع دوسرے ہیں۔سروے میں 2 اعشاریہ 4 فی صد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ حالیہ عرصے میں کسی ایسے شخص سے رابطے میں آ چکے ہیں جس کا کرونا وائرس ٹیسٹ بعد میں پازیٹو آیا تھا۔ یعنی ان افراد کے لیے یہ خطرہ موجود ہے کہ وہ اس عالمی وبا کی پکڑ میں آ سکتے ہیں۔ دو اعشاریہ 6 فی صد کا کہنا تھا کہ وہ ایسے افراد کو جانتے ہیں جو ان لوگوں سے رابطے میں رہ چکے ہیںجن کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو نکلا تھا۔یہ سروے 18 سے 24 مارچ کے دوران کیا گیا جس میں 4428 لوگوں نے حصہ لیا۔ اس سروے کے نتائج میں کرونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد میں اس سے قبل کے سروے میں نمایاں اضافہ سامنے آیا۔ اس سے پہلے 16 اور 17 مارچ میں کیے گئے سروے میں ایک فی صد لوگوں نے کہا تھا کہ ان کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو ہے۔سروے کے نتائج دیہاتی اور شہری علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ دیہاتوں میں تقریبا 9 فی افراد یا تو کرونا وائرس میں مبتلا تھے یا ایسے لوگوں سے رابطے میں رہے تھے جنہیں یہ وائرس لگ گیا تھا یا وہ ایسے لوگوں کو جانتے تھے جو وائرس سے متاثرہ شخص کے سوشل نیٹ ورک میں شامل تھے، جب کہ شہری آبادی میں ایسے افراد کی تعداد 13 فی صد تھی۔