پنجاب میں کورونا کے مریض سندھ سے زیادہ ہو گئے، عثمان بزدار کی حکمت عملی پر انگلیاں اٹھنے لگیں

پنجاب 490 کورونا کیسز کے ساتھ سندھ سے آگے آ گیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں میں پنجاب سندھ سے آگے نکل گیا ہے۔ملک بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 1373 ہوگئی ہے , اب تک 11 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ 23 افراد صحتمند ہوئے ہیں۔۔پنجاب میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 490 ہوگئی ہے۔سندھ میں کورونا وائرس کے 440 مریض ہیں۔خیبرپختونخوا میں 181 ،بلوچستان میں 133،گلگت بلتستان میں 91, اسلام آباد میں 27 اور آزاد کشمیر میں دو افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔وزیر اعلی سندھ مراد علی

مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں کرونا وائرس کے مقامی ٹرانسمیشن کے کیسز کی تعداد بڑھ کر مجموعی کیسز کا 10 فیصد ہوگئی ہے جو خطرناک رجحان ہے۔پنجاب میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی تعداد نے بھی سوالیہ نشان اٹھا دئیے ہیں کہ آیا پنجاب میں کورونا کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔کہا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کورونا کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ملک کے چاروں صوبوں میں مکمل لاک ڈاون کر دیا گیا تھا جس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں فوج تعینات کر دی گئی تھی تا کہ لوگوں کو ان کے گھروں سے نکلنے سے روکا جا سکے۔کورونا وائرس سے بچنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے دور رہیں تا کہ یہ مزید نہ پھیلے۔حکومت کی جانب سے یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر حالات بہتری کی طرف نہیں جاتے تو ہمیں کرفیو کی طرف بھی جانا پڑ سکتا ہے، اسی لئے حکومت کی جانب سے عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ لوگ گھروں میں رہیں اور ایک دوسرے سے ملنے سے اجتناب کریں کیونکہ اسی طرح ہم اس کے پھیلائو کو روک سکتے ہیں۔اس کے علاوہ لاہور میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی سکریننگ کے لئے موبائل یونٹس قائم کر دیئے گئے ہیں جس کے بعد لوگوں کے گھروں میں جا کر ان کی سکریننگ کی جائیگی۔ ابتدائی طور پر 9 موبائل یونٹس قائم کئے گئے ہیں لیکن بعد میں ان کی تعداد 16 کر دی جائے گی۔