مقامی کاٹن مارکیٹ میں کاروبار ٹھپ ، گزشتہ ہفتے کے دوران اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ فی من 8800 روپے کے بھائو پر مستحکم رکھا

کرونا وائرس کے باعث مقامی کاٹن مارکیٹ میں کاروبار ٹھپ رہا، تاہم کراچی کاٹن ایسوسی ایشن بین الاقوامی سطح کی مارکیٹ ہونے کے سبب روزانہ کھولی جاتی رہی اور باقاعدہ اسپاٹ ریٹ جاری ہوتے رہے گزشتہ ہفتے کے دوران اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ فی من 8800 روپے کے بھائو پر مستحکم رکھا۔ جبکہ صوبہ سندھ وپنجاب میں روئی کا بھائو فی من 6800 تا 8800 روپے رہا پھٹی تقریبا کاشتکاروں اور بیوپاریوں کے ہاتھ سے نکل چکی ہے قلیل مقدار میں جنرز کے پاس پھٹی موجود ہے فی الحال صرف چند جننگ فیکٹریاں چلنے کے قابل ہیں لیکن کورونا وائرس کی تعطیلات کے سبب وہ بھی بند ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی درآمدکنندگان خصوصی طور پر ٹیکسٹائل مصنوعات کے بڑے درآمدکنندگان امریکہ اور یورپین یونین کے درآمدکنندگان نے کورونا وائرس کے باعث شپمنٹ روکنے اور کئی کمپنیوں نے سودے کینسل کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل مصنوعات کی ملیں اضطراب کا شکار ہوگئی ہے۔

تیار شدہ مالوں کے انبار لگ گئے ہیں جس کے باعث تقریبا 100 سے زیادہ ملوں نے ملیں بند کر دی ہے کچھ ملیں جزوی طور پر چل رہی ہے وہ بھی بند ہونے کے قریب بتائی جاتی ہے جس کے باعث بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ٹیکسٹائل ملز کو ڈبل مار پڑھ رہی ہے ایک جانب برآمدی شپمنٹ میں غیر معمولی تاخیر یا معاہدے کینسل کئے جارہے ہیں دوسری جانب ڈالر کے بھا میں ہوشربا اضافہ کے باعث درآمد کی ہوئی روئی مہنگی پڑھ رہی ہیں تاہم اگر درآمد کنندگان ڈالر کے دام میں اضافہ کے باعث کینسل سودا معاہدوں کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے نظر ثانی کر سکتے ہیں۔دوسری جانب پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم عمران خان کو خصوصی خط لکھ کر استدعا کی ہے کہ کئی جنرز کے پاس روئی کی تقریبا 5 لاکھ گانٹھوں کا اسٹاک موجود ہے جس کا فی الحال کوئی خریدار نہیں علاوہ ازیں روئی کا وزن بھی دن بدن کم ہوتا جارہا ہے جس کے باعث انہیں ڈبل مار پڑ رہی ہے اس لیے جنرز سے بینکس پہلی مارچ سے 31 جولائی تک سود معاف کر دے تاکہ جنرز آئندہ سیزن کے لئے کپاس کے کاشتکاروں سے پھٹی کی خریداری کر سکے۔
کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ کورونا وائرس کیوں کہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے اس کے باعث بین الاقوامی طور پر بھی کاروبار ٹھپ ہے تاہم نیویارک کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے روئی کا وعدے کے بھا میں اتار چڑھا رہا بھا کم ہوکر فی پانڈ 49 امریکن سینٹ کی نہایت کم سطح پر آگیا تھا اس میں تقریبا 4 امریکن سینٹ کا اضافہ ہو کر 53 امریکن سینٹ ہوگیا تھا آخری روز دوبارہ کم ہوکر 51.33 سینٹ پر بند ہوا تاہم کاروبار ٹھپ ہی کہا جاسکتا ہے گوکہ USDA کی ہفتہ وار رپورٹ میں گزشتہ ہفتے کی نسبت برآمد میں 19 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
چین میں گو کے کاروبار معمول پر آرہے ہیں۔ تاہم کاٹن مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کی حامل ہے۔ بھارت میں بھی کرونا وائرس کے باعث کاروباری عمل رکا ہوا ہے تاہم روئی کے بھا روزانہ جاری کئے جاتے ہیں وہاں بھی روئی کا بھا مستحکم ہے کوئی کمی بیشی نظر نہیں آئی۔نسیم عثمان کے مطابق حکومت نے کرونا وائرس کے باعث مراعات کا اعلان کیا ہے خصوصی طور پر شرح سود میں مزید 1.50 روپے کی کمی کرکے شرح سود 11 روپے کر دیا گیا ہے دوسری جانب روپے کی نسبت ڈالر پاکستان کی تاریخ میں 167 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے لیکن دنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث کاروباری مارکیٹوں میں سردبازاری کے باعث اس کے فوری مثبت اثرات زائل ہو رہے ہیں۔
کرونا وائرس کی وجہ سے لوک ڈان ہونے کے باعث خصوصی طور پر امریکہ اور یورپین یونین کے ممالک نے بیرون ممالک سے ٹیکسٹائل مصنوعات کے درآمدی معاہدے منسوخ کرنا شروع کیے تو فوری طور پر بنگلہ دیش اور بھارت کے ٹیکسٹائل مصنوعات سے منسلک اداروں نے ان درآمدکنندگان سے معاہدے منسوخ نہیں کرنے کی اپیل کرنے لگے بنگلہ دیش کی گارمنٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر روبانا حق Dr Rubana Haq President of Bangladesh Garments Manufacturers And Exporters Association نے اور بھارت کی ٹیکسٹائل کی منسٹر سمریتی ایرانی Smt. Smriti Irani Honorable minister of Textile of india نے درآمدکنندگان سے معدبانہ اپیل کی ہے کہ برائے مہربانی درآمدی معاہدے کینسل نہ کیے جائے ایسا کرنے سے ہمارے لاکھوں کاریگر بیکار ہوجائیں گے آپ ہمارے مصنوعات درآمد کرلے بھلے اس کی ادائیگی میں تاخیر کرے لیکن افسوس ہماری ٹیکسٹائل منسٹری کی جانب سے درآمدکنندگان کو اس قسم کی التجا یا اپیل نہیں کی گئی۔