فلیٹ آپریٹرزاورگڈز ٹرانسپورٹ بحالی سے ذخیرہ اندوز مافیا کی کمر ٹوٹے گی ۔میاں زاہد حسین

زنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اورپاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے گڈز ٹرانسپورٹ کی بحالی اور خوراک سے متعلق صنعتیں کھولنے کی اجازت دے کر ملک کے مختلف علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی کمی اور ایک مصنوعی بحران کا امکان ختم کردیا ہے ،صوبائی حکومتیں اس پر عمل کریں تو ذ خیرہ اندوزمافیا کی کمر ٹوٹے گی۔
میاں زاہد حسین نے پیر کو بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ عوام کی طرح کارخانہ دار، ایس ایم ای مالکان اور دکانداروں سمیت کوئی بھی کرونا کی ناگہانی آفت کے لئے تیار نہ تھا اس لئے حکومت معیشت کے ہر شعبہ کے لئے بیل آئوٹ پیکیج کا اعلان کرے۔

23ارب ڈالرکی برآمدات کی طرح 50ارب ڈالر کی درآمدات کا شعبہ بھی ملکی معیشت میں اہم کردار اد اکرتا ہے جس سے لاکھوں افراد کا کاروبار وابستہ ہے۔

کمرشل امپورٹرز کو بھی بیل آئوٹ پیکیج دیا جائے تاکہ وہ موجودہ بحران سے نمٹتے ہوئے اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔فروری کے مہینے میں چین سے آنے والے کمرشل امپورٹس کے بل آف لینڈنگ پاکستانی بینکوں میں بروقت نہ آسکے جس پر امپورٹرز کو شپنگ کمپنیوں اور پورٹ حکام نے بھی جرمانے کئے جو واپس کئے جائیں اورجون تک کوئی جرمانہ یا لیٹ چا رجز نہ لئے جائیںجبکہ فروری سے جون تک بینک مارک اپ اور ودہولڈنگ ٹیکس معاف کیا جائے یااس میں50 فیصد کمی اوروصولی 6مہینے موخر کی جائے۔
جو شپمنٹس ابھی راستے میں ہیں ان پر کسٹم ڈیوٹی میں 50 فیصد رعایت دی جائے اور جو امپورٹر مالی مشکلات کی وجہ سے اپنا مال کلیئر نہ کروا سکیں انہیں بلاسود قرضہ دے کر ڈیفالٹ سے بچایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایس ایم ایز اور زراعت کے لئے 100 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے۔ مرکزی بینک، آئی ٹی کمپنیوںاور تمام ایس ایم ایزکو سستے قرضے دے۔
ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کی جائے، تاجروں نے گزشتہ سال کے گوشواروں میں جو اثاثے ظاہر کئے تھے ان کا25 فیصد قرضہ نرم شرائط پر دیا جائے تاکہ تاجر اپنی کاروباری، ذاتی اور ملازمین کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں جاری شدہ کریڈٹ کارڈز کی لمٹ دگنی اورسود معاف کیا جائے جبکہ ادائیگیوں کی تاریخ میں 3ماہ کی توسیع کی جائے تویہ کارڈ استعمال کرنے والے لاکھوں افراد کو ریلیف ملے گا جبکہ کاروباری برادری کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کے جن شعبوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے ان میں ٹریول ایجنٹس،آئی ٹی سیکٹر، ٹرانسپورٹ،فلیٹ آپریٹرز،کمر شل امپورٹرز،چھوٹے تاجر، سیاحت اور ہوٹلنگ شامل ہیں، جن کی حالت زار کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی بحالی کیلئے موثراقدمات کئے جائیں کیونکہ ان شعبوں سے لاکھوں گھروں کا چولھا جلتا ہے۔