کورونا سے ایک لاکھ سے زیادہ امریکی ہلاک ہو سکتے ہیں.سی ڈی سی کا انتباہ

امریکا کے وبائی امراض کے کنٹرول اور انسداد کے ادارے (سی ڈی سی)کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاﺅچی نے خبردار کیا ہے کہ کورونا سے ایک لاکھ سے زیادہ امریکی ہلاک ہو سکتے ہیں، جو موجودہ تعداد کا 50 گنا ہے.ڈاکٹر فاﺅچی نے سی این این سے بات کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ عالمی وبائی مرض کرونا وائرس ایک لاکھ سے زیادہ امریکیوں کی جان لے سکتا ہے یہ اندازہ مختلف ماڈلز کی بنیاد پر لگایا گیا ہے.انہوں نے کہا کہ اب تک سرکاری طور پر ایک لاکھ 24 ہزار متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2100ہے جس میں تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے.امریکہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، اسے تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلے ایک ہزار افراد ایک ماہ کے دوران ہلاک ہوئے، جب کہ بقیہ ایک ہزار دو دن میں ہلاک ہوئے ہیں.کورونا کے خلاف قائم ٹاسک فورس کے سربراہ اور نائب صدر مائیک پینس نے کہا کہ وہ اس مرض کے پھیلاﺅ کے بارے میں جلد ہی سرکاری ڈیٹا جاری کریں گے انہوں نے کہا کہ اب تک لاکھوں افراد کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں اور ان میں سے دس فی صد کے نتیجے مثبت آئے ہیں.دوسری طرف ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکہ کساد بازاری کی لپیٹ میں آ چکا ہے تاہم امریکی وزیر خزانہ منوچن نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد امریکی معیشت تیزی سے بحال ہونے کی اہلیت رکھتی ہے.دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لوگوں کے گھروں میں رہنے اور سماجی دوری برقرار رکھنے کے لیے جاری کردہ ہدایات کی مدت آئندہ ماہ کے آخر تک بڑھا دی ہے صدر ٹرمپ کی جانب سے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے گائیڈ لائنز پر عمل در آمد کی مدت میں توسیع کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک اعلیٰ طبی ماہر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وبا سے امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی موت ہو سکتی ہے.کورونا وائرس کے دنیا بھر میں سب سے زیادہ کیسز امریکہ میں سامنے آئے ہیں جن کی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار سے زائد ہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی 2489 تک پہنچ چکی ہے.
وائٹ ہاﺅس میں کورونا وائرس سے متعلق بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث شرح اموات میں اضافے کا خدشہ ہے بریفنگ کے موقع پر صدر ٹرمپ کے ہمراہ ان کے مشیر اور نامور کاروباری افراد بھی موجود تھے. صدر ٹرمپ نے کہا کہ کامیابی حاصل کرنے سے پہلے جیت کا اعلان کردینے سے بدتر کچھ نہیں ہو سکتا وہ اپنے فیصلے سے متعلق مزید تفصیلات کے بارے میں منگل کو آگاہ کریں گے‘انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر وہ حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہوں گے تو اس وبا پر قابو پایا جاسکے گا.امریکہ میں وبا سے سب سے زیادہ نیو یارک متاثر ہوا ہے جہاں 60 ہزار کے قریب کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 965 افراد کی موت ہوئی ہے اسی طرح نیو جرسی میں 13 ہزار جب کہ کیلی فورنیا میں چھ ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے.یاد رہے کہ امریکی صدر نے کورونا وائرس کا پھیلاﺅروکنے کے لیے 15 روز قبل گائیڈ لائنز جاری کی تھیں جس کے تحت دس سے زیادہ افراد کے اجتماع سے گریز، ہوٹلوں، ریستورانوں اور فوڈ کورٹس میں کھانا کھانے سے احتیاط، بارز میں اکھٹے ہونے سے اجتناب، بڑی عمر کے افراد کا زیادہ تر وقت گھر میں گزارنے جیسی ہدایات شامل تھیں.ان ہدایات کی روشنی میں نوجوانوں کے گھر سے باہر نکلنے میں کمی اور سکولوں میں جانے کے بجائے گھر میں بیٹھ کر پڑھائی کا کہا گیا تھا.
امریکا کے مختلف امراض کے انسداد کے سینٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں 2010 سے 2020 کے درمیان نزلہ زکام سے 12 ہزار سے 61 ہزار کے درمیان شہری سالانہ موت کا شکار ہوتے رہے ہیں سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے مطابق 19-1918 میں امریکہ میں فلوکی وبا سے چھ لاکھ 75 ہزار افراد کی ہلاکت ہوئی تھی. واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے لوگوں کو اس وقت حیران کر دیا تھا جب گزشتہ ہفتے ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایسٹر کی تعطیلات سے پہلے امریکہ میں معمولات زندگی بحال ہوجائیں کیوں کہ ملک طویل شٹ ڈاﺅن کا متحمل نہیں ہوسکتا.صدر ٹرمپ نے لاکھوں امریکیوں کے گھروں تک محدود رہنے کے نتیجے میں معیشت پر پڑنے والے اثرات پر مایوسی کا اظہار کیا تھا جب کہ صحت عامہ کے ماہرین کے برعکس کرونا وائرس اور فلو کا موازنہ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ ہم ہر سال فلو کے باعث ہزاروں لوگوں سے محروم ہوتے ہیں لیکن ہر سال ملک کو بند نہیں کرتے.واضح رہے کہ امریکہ میں 21 ریاستوں کے گورنرز نے غیر ضروری کاروبار بند اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

ان 21 ریاستوں میں ملک کے 33 کروڑ شہریوں کی نصف سے زائد آبادی رہتی ہے.وائٹ ہاو¿س میں بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے ایسٹر تک ملک میں سرگرمیاں بحال کرنے کے بیان کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک خواہش تھی انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اب معاشی سرگرمیاں جون تک مکمل بحال ہو سکیں گی.