کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے. شہباز شریف

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے. قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالات کا تقاضا ہے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس روزانہ بنیاد پر منعقد کیا جائے اور ڈاکٹرز، نرسز، طبی عملے اور صوبوں کو حفاظتی لباس، دیگر سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے.
شہباز شریف نے کہا کہ 2 دن میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ شدید پریشانی کا باعث ہے جبکہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد سینکڑوں سے ہزاروں میں تبدیل ہونا سنگین صورتحال ہے.

انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت کورونا کے ”ٹرینڈ“ کو سمجھے گی اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو گی، صوبوں کو نظرانداز کیا جانا مجرمانہ عمل اور بے حسی کی انتہا ہے.

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ صوبوں کو وسائل کی فراہمی اور ان کی تقسیم کے طریقہ کار پر تاحال وضاحت نہیں ہوئی ہے فروری میں اسلام آباد سمیت تمام صوبوں نے حفاظتی لباس مانگا لیکن وزیر اعظم نے انکار کر دیا اور صوبے صرف دہائی دیتے رہ گئے. انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ضروری اشیا کی منظوری نہ دے کر مجرمانہ غفلت کی ہے لاک ڈاﺅن اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے.
دریں اثناءاسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو لکھے گئے خط میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں وسائل کے استعمال کی شفافیت کو نگرانی کے ذریعہ یقینی بنایا جائے. شہباز شریف نے کہا ہے کہ وسائل کے استعمال کی پارلیمانی نگرانی بہت ضروری ہے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کورونا وائرس کا معاملہ عوامی صحت کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے پاکستان یہ جنگ محدود وسائل اور فنڈز سے لڑ رہا ہے. انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کااجلاس بلانے کے اقدام کو سراہتے ہیں.