جہانگیر ترین کو زرعی ٹاسک فورس کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو زرعی ٹاسک فورس کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق آٹا بحران کی رپورٹ آنے کے بعد سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور ایکشن بھی شروع ہو گئے ہیں ۔سینئر سیاستدان اور وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کو زرعی ٹاسک فورس کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد مزید کاروائی کی جائے گی۔پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق بھی کر دی ہے۔جب کہ جہانگیر ترین نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر الزامات عائد کیے ہیں۔جہانگیر ترین نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے دفاتر سے ریکارڈ قبضے میں لیا ہے۔

ایف آئی اے کے اہلکار 20مارچ سے جہانگیر ترین کے دفتر میں موجود ہیں۔

قبلا ازیں ے۔سمیع اللہ چوہدری نے وزیراعلی پنجاب سے ملاقات میں استعفی دیا۔آٹا بحران کی رپورٹ میں وزیر خوراک پنجاب کو بھی ذمہ دار قرار دے دیا گیا تھا۔ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے بھی سمیع اللہ چوہدری کے مستعفی ہونے کی تصدیق کی ہے۔سمیع اللہ چوہدری کا کہنا ہے کہ مجھ پر بے بنیاد الزام لگائے گئے جس کی وجہ سے رضاکارانہ طور پر عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں۔
مجھ پر الزام ہے کہ محکمہ کی ریفارمز نہیں کر سکا۔ جب تک الزامات کلیئر نہیں ہوتے حکومتی عہدہ نہیں لوں گا۔انہوں نے کہا کہ جب تک میں خود کو بے قصور ثابت نہ کر لوں میں خود کو اس عہدے کے اہل نہیں سمجھتا۔ میں ہر فورم پر خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔ خیال رہے کہ ملک میں آ ٹے اور چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی۔
آٹے اور چینی کی تحقیقاتی رپورٹ میں ذمہ دران کو بے نقاب کردیا گیا ۔ وزیراعظم کو پیش کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ چینی بحران میں سیاسی خاندانوں نے خوب مال بنایا۔ جہانگیرترین اور خسروبختیار کے بھائی کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ چینی بحران دراصل چینی برآمد کرنے اور چینی پر سبسڈی دینے سے پیدا ہوا۔ پنجاب حکومت نے چینی پر 3 ارب کی سبسڈی دی۔
اسی طرح ایکسپوٹرز کو دو فائدے ملے ، ایک چینی کی قیمتوں میں اضافہ اور دوسرا 3 ارب کی سبسڈی کا فائدا ہوا۔ جہانگیرترین کی شوگر ملز کو 56 کروڑ یعنی 22 فیصد سبسڈی دی گئی۔ چینی بحران میں سب سے زیادہ فائدہ جہانگیرترین نے اٹھایا۔ رپورٹ میں چودھری مونس الٰہی اور چوہدری منیر بارے بھی پیسے کمانے کا انکشاف ہوا ہے۔مونس الٰہی اورچودھری منیر رحیم یارخان ملز،اتحاد ملز ٹو اسٹارانڈسٹری گروپ میں حصہ دار ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے غلام دستگیر کی شوگر ملز کو 14 کروڑ کا فائدہ ہوا۔ وفاقی وزیرخسرو بختیار کے رشتے دار نے چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کمائے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی کاہلی آٹا بحران کی اہم وجہ بنی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں