چینی اور آٹا بحران کی تحقیقاتی رپورٹ:وفاقی کابینہ اکھاڑپچھاڑ

ملک میں چینی اور آٹا بحران کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے دو روز بعد ہی وفاقی کابینہ میں رد و بدل کردی گئی ہے. وزیر اعظم سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق مخدوم خسرو بختیار کو وفاقی فوڈ سیکیورٹی کی وزارت سے ہٹا دیا ہے اور انہیں اقتصادی امور کا وفاقی وزیر بنا دیا گیا ہے‘کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام اب قومی فوڈ سیکیورٹی کی وزارت سنبھالیں گے.
اسی طرح حماد اظہر وزیر اقتصادی امور کی جگہ اب وزیر صنعت کا قلمدان سنبھا لیں گے کابینہ میں رد و بدل کے نتیجے میں اعظم سواتی کی وزارت بھی تبدیل ہوگئی ہے اور اب وہ وزیر پارلیمانی امور کی بجائے وزیر انسداد منشیات ہوں گے.

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد ارباب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ بابر اعوان کو مشیر پارلیمانی امور مقرر کیا گیا ہے اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے خالد مقبول صدیقی کا وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے.

وزیر اعظم نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے امین الحق کو کابینہ میں شامل کرتے ہوئے وزیر مواصلات مقرر کیا ہے جبکہ ہاشم پوپلزئی کی جگہ عمر حمید کو سیکرٹری قومی فوڈ سیکیورٹی اور ریسرچ تعینات کیا ہے وزیر اعظم عمران خان نے بھی ٹوئٹس کے ذریعے وفاقی کابینہ میں رد و بدل سے متعلق بتایا ہے. دوسری جانب ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے جہانگیر ترین کو زرعی ٹاسک فورس کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹادیا ہے ذرائع کے مطابق چینی اور آٹا بحران کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے اہم ساتھی جہانگیر ترین کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے.
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد جہانگیر ترین کے خلاف مزید کارروائی انکوائری کمیٹی کی سفارشات کے بعد ہوگی دوسری طرف جہانگیر نے زرعی نے ایگری کلچر ٹاسک فورس سے ہٹائے جانے کی تردید کی اور کہا کہ یہ خبر درست نہیں ہے. انہوں نے مزید کہا کہ میں کبھی کسی ٹاسک فورس کا چیئرمین نہیں رہا ہوں، ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کوئی مجھے چیئرمین زرعی ٹاسک فورس تقرری کا نوٹیفکیشن دکھا سکتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں