وزیراعظم کی اپیل کےبعد اے ڈی بی کا ترقی پذیرممالک کیلئے امداد کا اعلان

ایشیائی ترقیاتی بینک نے ترقی پذیرملکوں کیلئے 20 ارب ڈالر وائرس ریسکیو پیکیج کا اعلان کردیا ہے، اے ڈی بی نےنجی شعبوں کیلئے2 ارب ڈالر اور بجٹ خسارے کیلئے13ارب ڈالرمختص کیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے کورونا وائرس سے متاثرہ ترقی پذیرملکوں کیلئے 20 ارب ڈالر کے وائرس ریسکیو پیکیج کا اعلان کردیا ہے۔
ان ترقی پذیر ممبر ممالک میں افغانستان سے میانمار اور بھارت سے چین تک کے ممالک شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ترقی پزیر ممبر ممالک کے نجی شعبے کیلئے 2ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح کورونا سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کے بجٹ خسارے کیلئے 13ارب ڈالرمختص کیے گئے ہیں۔ واضح رہے ایشیائی ترقیاتی بینک نے 18 مارچ کو ترقی پذیر ممبر ممالک کیلئے 6.5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کااعلان کیا تھا، رکن ممالک میں کلی معیشت پرپڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے اورصحت عامہ کے شعبوں میں فوری امداد کے ضمن میں مزید13.5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کا اعلان کیا ہے۔

ان میں سے 2.5 ارب ڈالر رعایتی قرضے بھی شامل ہیں۔ یاد رہے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے ترقی پذیر ممالک کیلئے ریلیف پیکج دینے کی اپیل کی تھی۔ وزیراعظم نے عالمی برادری سے اپنے مختصر خطاب کے دوران پیغام میں کہا کہ کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیل گیا ہے۔ عالمی برادری سے کورونا کے غیر معمولی چیلنج پر بات کرنا چاہتا ہوں۔
کورونا وائرس سے متعلق ترقی پذیر ممالک کا ایک ردعمل ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں وسائل کی کمی ہے۔ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ صحت پر خرچ کرسکیں۔ ترقی یافتہ ممالک کا کورونا وائرس سے نمٹنا اور معیشت کو سنبھالنا ہے، ترقی یافتہ ممالک اپنے عوام کیلئے بڑے پیکجز کا اعلان کررہے ہیں۔ جرمنی ، جاپان نے ٹریلین ڈالرز کے پیکج دیے ہیں۔
امریکا اپنے عوام کیلئے 2.2 ٹریلین ڈالر کا پیکیج دے رہا ہے۔ اس کے برعکس ترقی پذیرملکوں میں لاک ڈاون کی وجہ سے بھوک کے مسائل سے بھی نمٹن اہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 22 کروڑ عوام کا ملک ہے لیکن ہم نے کورونا وائرس ریلیف پیکج میں 8 ارب ڈالر قائم کیا ہے۔ جو مسئلہ پاکستان کو درپیش ہے وہی مسئلہ ترقی پذیر ملکوں کو بھی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو یہ فکر ہے کہ کورونا سے لوگوں کو بچائیں گے تو کہیں لوگ بھوک سے نہ مرجائیں۔ ترقی پذیر ممالک کو ایک طرف کورونا وائرس سے لڑنے کی فکر ہے، جبکہ دوسری طرف فکر ہے کہ کہیں لوگ بھوک سے نہ مرجائیں۔