وزیراعظم کے معاونین اور مشیروں کے سروں پر تلور لٹکنے لگی

وفاقی حکومت میں وفاقی یا وزیر مملکت کی حیثیت کے ساتھ مشیروں اور معاونین خصوصی کی ایک بڑی تعداد کے تقر کے وفاقی حکومت کے اختیار پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان تعیناتیوں کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی . اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے اراکین کی جانب سے پیش کردہ مشترکہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈیڑھ درجن سے زائد تعداد میں معاونین خصوصی اور مشیر آئین کے مطابق نہ تو پارلیمنٹ کے منتخب رکن ہیں اور نہ ہی کابینہ کا حصہ ہیں اس کے باوجود وہ ایگزیکٹو اتھارٹی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں.

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وزیر اعظم کے خصوصی معاونین اور مشیر جو وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کی حیثیت رکھتے ہیں وہ تنخواہوں، الاو¿نسز، مراعات سمیت کسی بھی مالی فائدے کے حقدار نہیں ہے انہوں نے نشاندہی کی کہ چونکہ وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت اعتماد پر کام کرتے ہیں لہٰذا وہ پاکستان کے دوسرے شہریوں کی طرح قانون کی پابندی کرنے کے پابند ہیں.
ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعظم نے اپنے فرائض سرانجام دینے اور مکمل طور پر آئین کے مطابق کام کرنے کا حلف لیا تھا، عوامی نمائندوں کے بجائے غیر منتخب مشیروں اور خصوصی معاونین کے ایگزیکٹو اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گویا جمہوریت خود سے جنگ میں مصروف ہے. درخواست میں موسمیاتی تبدیلی کے مشیر ملک امین اسلم خان، تجارت اور سرمایہ کاری کے مشیر عبد الرزاق داﺅد، ادارہ جاتی اصلاحات اور سادگی کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، مشیر برائے خزانہ اور محصولات ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ، پارلیمانی امور کے مشیر بابر اعوان کے علاوہ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ اور غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ محمد شہزاد ارباب، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ مرزا شہزاد اکبر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومین ریسورس ڈویلپمنٹ سید ذوالفقار عباس بخاری کو فریق بنایا گیا ہے.
ساتھ ہی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی رابطہ ندیم افضل گوندل، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوان محمد عثمان ڈار، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بجلی اور پیٹرولیم سردار یار محمد رند، وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی اور اسٹریٹجک پالیسی پلاننگ ڈاکٹر معید یوسف، وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے کو آرڈینشیشن ا?ف مارکیٹنگ اور ڈیولپمنٹ آف منرل ریسورسز شہزاد سید قاسم، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروس ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈاکٹر ظفر مرزا اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی ڈی اے علی نواز اعوان کو فریق بنایا گیا.
درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی کہ وہ ذمہ داروں کو عہدے سنبھالنے کی تاریخ سے لے کر اب تک کی تمام تنخواہوں اور دیگر سہولیات اور مراعات حوالے کرنے کی ہدایت کریں کیونکہ ان کی تعیناتی اس ملک کے آئین اور قانون کے منافی ہے جبکہ فریقین کی جانب سے کسی بھی ایگزیکٹو اتھارٹی کا استعمال قانون اور آئین کے منافی تھا. خیال رہے کہ یہ درخواست ایڈووکیٹ جہانگیر خان جدون کے ذریعہ محمد ارشاد خان اور غلام دستگیر بٹ نے دائر کی‘ پیر کو کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے کے اقدامات کے بارے میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاونین اور خصوصی مشیروں کی ایک فوج نے قبضہ کرتے ہوئے پوری کابینہ کو فالتو بنا دیا ہے.
درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ تحریک انصاف کے حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد ہی وزیر اعظم عمران خان نے 25 وفاقی وزرا، 4 وزرائے مملکت، 5 مشیران اور 14 خصوصی معاونین کو مقرر کیا جبکہ تقرریوں اور تبادلوں کا عمل اب بھی جاری ہے. درخواست میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 260 میں خصوصی معاونین کے حوالے سے ایک حوالہ دیا گیا تھا تاہم اس میں ان کے تقرر پر کوئی بات نہیں ہے درخواست میں استدعا کی گئی کہ وزیر اعظم نے قواعد برائے کاروبار 1973 کا ضابطہ 4 (6) کا استعمال کیا تاہم قواعد آئینی شق کو نظرانداز نہیں کرسکتے لہٰذا اس طرح کی تقرریاں غیرقانونی ہیں.