سپریم کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل چلانے کے لیے 11 رکنی ایڈہاک کونسل قائم کردی

سپریم کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو چلانے کے لیے جسٹس ریٹائرڈ اعجاز افضل کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈہاک کونسل قائم کردی ہے . اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بریگیڈیئر(ر) ڈاکٹر حافظ الدین احمد صدیقی کی بطور رجسٹرار بحالی کے خلاف وفاقی حکومت کی دائر درخواست پر محفوظ کردہ مختصر فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے پڑھ کر سنایا.
تحریری حکم کے مطابق اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ نے اس حقیقت کے باجود بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر حافظ الدین احمد صدیقی کی بحالی کا فیصلہ سنایا کہ انہیں دوبارہ عہدے پر تعینات نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ جس قانون کے تحت ان کی تعیناتی ہوئی تھی وہ منسوخ ہوچکا اور اس کے خلاف اپیل بھی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے. چنانچہ جب عدالت نے یہ بات اتارنی جنرل سے دریافت کی بریگیڈیئر(ر) ڈاکٹر حافظ الدین احمد صدیقی کس طرح پی ایم ڈی سی کا رجسٹرار ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں جبکہ وہ قانون ہی منسوخ ہوچکا ہے جس کے تحت ان کی تعیناتی ہوئی تھی.
انہوں نے تسلیم کیا کہ کہ اس دعوے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں لہٰذا عدالت نے محسوس کیا کہ اس معاملے کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت نہیں چنانچہ عدالت نے پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کر کے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 7 اپریل کو کیے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور اس فیصلے کے تناظر میں ہائی کورٹ میں دائر توہین عدالت کی درخواست بھی خارج ہوگئی.
عدالت کی تشکیل دی گئی 11 رکنی ایڈہاک کونسل کے صدر سپریم کورٹ کے سابق جج اعجاز افصل خان ہوں گے جبکہ دیگر اراکین میں اٹارنی جنرل پاکستان، وفاقی سیکرٹری صحت، پاکستان کی مسلح افواج کے سرجن جنرل، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے وائس چانسلر، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، لاہور کے وائس چانسلر، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی، کراچی کے وائس چانسلر، خیبرمیڈیکل یونیورسٹی، پشاور کے وائس چانسلر، بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، کوئٹہ کے وائس چانسلر، شہید، ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر، ڈی مونٹمورینسی کالج ا?ف ڈینٹسری، لاہور کے پرنسپل شامل ہیں.
عدالت نے حکم نامے میں ہدایت کی گئی کہ جتنی جلد ممکن ہو نوتشکیل شدہ کونسل کا اجلاس بلایا جائے اور اٹارنی جنرل کونسل کے صدر کی منظوری سے پہلے اجلاس کی تاریخ کریں ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ کونسل کے صدر اراکین کی مشاورت سے کونسل کے رجسٹرار کا تقرر کریں گے. حکم نامے کے مطابق پی ایم ڈی سی کا تمام تر موجودہ ریکارڈ سیکرٹری صحت کے مجاز نمائندے کے حوالے کیا جائے خیال رہے کہ 11 اپریل کو حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجسٹرار پی ایم ڈی سی کی بحالی کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا.
اپیل میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پی ایم ڈی سی ختم کرنے سے متعلق آرڈیننس کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور رجسٹرار کا تقرر اسی آرڈیننس کے تحت کی گئی تھی۔

حکومت نے اپیل میں موقف اختیار کیا تھا کہ جب آرڈیننس کالعدم ہوگیا تو رجسٹرار کیسے عہدے پر رہ سکتے ہیں؟ساتھ ہی وفاق نے اپیل پر رجسٹرار کے اعتراضات کے خلاف متفرق درخواست بھی دائر کی تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی توہین عدالت کی کارروائی بھی عدالت عظمیٰ میں چیلنج کی تھی.

خیال رہے کہ صدر عارف علوی نے 20 اکتوبر کو پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) آرڈیننس نافذ کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کردیا تھا آرڈیننس کے نفاذ کے ساتھ ہی حکومت نے پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس کی منظوری کے تناظر میں پاکستان کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل ڈاکٹروں کی لائسنسنگ اور رجسٹریشن سے متعلق انتہائی اہم ریکارڈز اور میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کی حفاظت کے لیے فوری ایکشن لیا تھا.
جس کے بعد وزارت برائے قومی صحت (این ایچ ایس) نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے پاکستان میڈیکل کونسل کی عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا تھا بعدازاں 28 اکتوبر کو پی ایم ڈی سی کے رجسٹرار بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر حفیظ الدین اور 31 ملازمین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کونسل کو تحلیل کرنے کے خلاف درخواست دائر کی تھی. چنانچہ اس درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 11 فروری 2020 کو پی ایم ڈی سی اور اس کے تمام ملازمین کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا تاہم عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی تھی، ملازمین نے موقف اپنایا تھا کہ پی ایم ڈی سی کی عمارت کو سیل کردیا گیا ہے اور ملازمین کو داخل نہیں ہونے دیا جارہا.
مذکورہ درخواست کی سماعت میں ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو پی ایم ڈی سی کے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کا حکم دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ رجسٹرار پی ایم ڈی سی عہدے کا چارج سنبھال کر قانون کے مطابق فرائض سرانجام دیں اور کورونا وائرس کے حوالے سے حکومت کی پالیسی پر عملدرآمد کریں.