ساری معیشت متاثر ہوئی ہے، چھوٹے اور درمیانے سمیت تمام شعبوں کو پیکیج دیا جائے،

ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین ،پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس، عالمی کساد بازاری اور ملکی حالات سے تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں اس لئے ملکی معیشت کے تمام شعبوں کو امدادی پیکیج دیا جائے۔
کاروبار کی بندش کی وجہ سے 5500 ارب کے ابتدائی ہدف کے مقابلہ میں 3500 ارب روپے سے زیادہ ٹیکس کی وصولی ناممکن ہے۔میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ وباء سے پہلے محاصل میں 700 ارب روپے تک کی کمی کا امکان بتایا گیا تھا،موجودہ بحران کے پیش نظراس میں مزید کمی کا امکان ہے۔انھوں نے کہا کہ اب ہدف میں مزید کمی کر کے اسے 3908 ارب کر دیا گیا ہے جس کا حصول بھی مشکل ہے ۔

محاصل کے نقصان کو پورا کرنے کے لئے منی بجٹ یا دیگر سخت اقدامات کے اندیشے نے کاروباری برادری کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے کنسٹرکشن انڈسٹری سے بجا طور پر توقعات وابستہ کی ہیں۔ اس پیکیج میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے بناتے ہوئے نجی شعبہ سے مشاورت کی گئی جسے زمینی حقائق کا بخوبی علم ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پیکیج میں غریب عوام اور مڈل کلاس کی ضروریات کاکسی حد تک خیال رکھا گیا ہے۔
اس تعمیراتی پیکیج میں بلڈرز اور خریداروں کو ایمنسٹی دی گئی ہے مگر فروخت کنندگان کو کوئی معافی نہیں ملی ہے۔پراپرٹی کے خریدار مکمل دستاویز بندی کو ترجیح دینگے تاکہ ان کا زیادہ سے زیادہ سرمایہ سفید ہو سکے جبکہ فروخت کنندہ جسے کوئی تحفظ نہیں دیا گیا ہے جو پراپرٹی کی ویلیو کو کم از کم دکھانے کی کوشش کرے گا جس سے تنازعہ جنم لے گا ۔ایسی صورتحال سے نمٹنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ پیکیج میں موجودہ سقم بلا تاخیر دور کئے جائیں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے بھی مشاورت کرکے پیکیج کو بہتر بنا یا جائے۔
انھوں نے کہا کہ معیشت کو دلدل سے نکالنے کے لئے نجی شعبہ سے بھرپور مشاورت شروع کی جائے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروںکی مالی مشکلات ختم کرنے کیلئے فوری پیکیج دیا جائے ،بجلی اور گیس کے بلوں کو3ماہ کیلئے موخر کیا جائے اور12اقساط میں وصولی کی جائے یابلوں کی ادائیگی کیلئے اسٹیٹ بینک سے بلا سود قرضہ فراہم کیا جائے ۔تمام معاملات میں کاروباری برادری سے بھی رہنمائی لینے کی ضرورت ہے تاکہ کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور اس میں کسی قسم کی تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔