امریکہ میں خنزیرکے گوشت کاپراسسنگ پلانٹ بڑے پیمانے پرکورونا وائرس پھیلاﺅ کا سبب بنا

امریکہ کی ریاست ساﺅتھ ڈکوٹا میں قائم خنزیرکے گوشت کی مصنوعات بنانے والا دنیا کے سب سے بڑا پلانٹ ملک میں بڑے پیمانے پرکورونا وائرس پھیلاﺅ کا سبب بنا‘جولیا نامی ایک لڑکی نے 25مارچ کو اپنی شناخت چھپانے کے لیے ایک جعلی فیس بک اکاﺅنٹ سے اپنی کاﺅنٹی سوفالز کے مقامی اخبار ”ارگس لیڈر“ کے فیس بک پر پیغام بھیجا کہ کیا آپ پتہ کر سکتے ہیں کہ” سمتھ فیلڈ فوڈز“ (خنزیرکا گوشت پراسس کرنے والی فیکٹری) میں کیا ہو رہا ہے؟8 منزلہ عمارت میں بنی یہ فیکٹری امریکہ کے بڑے فوڈ پراسسنگ کارخانوں میں سے ہے جہاں خنزیر کے گوشت سے مختلف اشیا بنائی جاتی ہیں عام دنوں میں یہاں روزانہ 25سے30 خنزیروں کو ٹکڑوں میں کاٹ کر ان کا قیمہ، ہاٹ ڈاگز، بیکن اور ہیم بنائے جاتے ہیں.
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس فیکٹری میں 3700 ملازمین کام کرتے ہیں اور یہ شہر میں روزگار فراہم کرنے والا بڑا مرکز ہے بتایا گیا ہے کہ فیکٹری کے ملازمین میں ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود انتظامیہ نے خاموشی سے کام جاری رکھا اور متاثرملازمین کو بھی چھٹیوں پر نہیں بجھوایا گیا ‘امریکا میں کورونا وائرس کے حوالے سے جاری ہونے والے ایس او پیزکے مطابق ایسی صورتحال میں نہ صرف کمپنی کو فوری طور پر فیکٹری سیل کردینا چاہیے تھی بلکہ اس دوران سپلائی کیا جانے والا سامان بھی تلف کرنا لازم تھا مگر کمپنی نے مجرمانہ غفلت برتی.
تاہم کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متاثرہ ملازم کو چھٹیوں پر بجھوادیا گیا اور کام کی جگہ اور دیگر جگہوں کواچھی طرح سے جراثیم سے پاک کر دیا گیا تھا لیکن یہ پلانٹ جسے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ’انفراسٹرکچر انڈسٹری کا اہم حصہ‘ سمجھا جاتا ہے، مکمل طور پر چلتا رہے گا‘فیکٹری کو کھلا رکھنے کے فیصلے کی وضاحت کے لیے 19 مارچ کو جاری کردہ ایک آن لائن ویڈیو بیان میں سمتھ فیلڈ کے سی ای او کینتھ سلیون کا کہنا تھا کہ کھانا ہماری زندگی کا ایک لازمی جزو ہے اور 40 ہزار افراد پر مشتمل ہماری ٹیم کے اراکین ہزاروں امریکی کسان خاندان اور ہماری سپلائی چین کے بہت سارے دوسرے شراکت دار یہ سب کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے ہماری قوم کے ردعمل کا ایک اہم حصہ ہیں.
جبکہ ”مخبر“ جولیا کا کہنا ہے کہ سمتھ فیلڈ فوڈز کے کئی لوگوں کے ہسپتال داخل ہونے کے بارے میں سنا گیا‘جولیا کی عمر 20 اور 30 سال کے درمیان ہے اور یونیورسٹی کی طالبہ ہیں کووڈ 19 کے کی وجہ سے یونیورسٹی بند ہونے کے سبب وہ گھر پر ہیں تاہم ان کے والدین طویل عرصے سمتھ فیلڈ میں ملازمت کر رہے ہیں جولیا بتاتی ہیں میرے والدین انگریزی نہیں جانتے وہ اپنی وکالت نہیں کر سکتے ہیں کسی کو ان کے لیے آواز اٹھانا ہو گی کیونکہ جولیا کے آوازاٹھانے سے اس کے والدین کی ملازمیتں خطرے میں ہیں‘سو فالز میں موجود کئی دوسرے خاندانوں کی طرح جولیا کے خاندان نے بھی خود کو بیماری سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی.
سال کی جتنی چھٹیاں رہتی تھیں وہ انہوں نے گھر رہنے کے لیے استعمال کیں کام سے آنے کے بعد وہ اپنے جوتے باہر اتارتے اور سیدھے نہانے کے لیے جاتے، سر اور ناک ڈھانپنے کے لیے جولیا ان کے لیے والمارٹ سٹور سے حفاظتی سامان خرید کر لائی تھیں. انہوں نے بتایا کہ پلانٹ یں لوگ پروڈکشن لائنوں پر اپنے ایک فٹ سے بھی کم فاصلے پر کھڑے ہو کر کام کرتے ہیں ‘سمتھ فیلڈ کے ملازمین میں کوورنا وائرس سے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 80 سے 190 اور پھر 238 تک جا پہنچی تاہم پلانٹ کو بند نہیں کیا گیااور 15 اپریل کو سمتھ فیلڈ گورنر ساﺅتھ ڈکوٹا کے دباﺅ پر بند ہوا اب تک پلانٹ کے 644 ملازمین میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ پلانٹ سے پراسس ہونے والا سامان ملک کے مختلف حصوں میں جاتا ہے .
نیویارک ٹائمز کے مطابق سمتھ فیلڈ فوڈز کیسز کی تعداد یو ایس ایس تھیوڈور روز ویلٹ بحری جہاز اور الیونائس کے شکاگو میں کوک کاﺅنٹی جیل سے آگے نکل گئی ہے‘یہ اعدادوشمار ہسپتال میں سمتھ فیلڈ کے پہلے ملازم کی وفات کے ایک دن بعد جاری کیے گئے تھے اس ملازم کی اہلیہ انجیلیٹا نے ہسپانوی جریدے کو بتایا کہ ان کے شوہر کو وائرس پلانٹ سے لگا اس سے قبل وہ بہت صحتمند تھے‘انجیلیٹا کا یہ بھی کہنا تھا مرنے والوں میں صرف میرے شوہر ہی نہیں اور بھی کئی لوگ ہوں گے.
ریپبلکن لیڈر شپ کے زیر قیادت یہ ریاست ان پانچ امریکی ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں کسی طرح کی پناہ گاہ تعمیر کرنے کا حکم نہیں جاری کیا گیاکورونا وائرس کی عالمی وبا نے اس ریاست میں موجود معاشرتی تفریق کا پردہ چاک کر دیا ہے جہاں ملک بھر میں بہت سارے سفید پوش تنخواہ دار ملازمین محفوظ پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں اور گھروں سے کام کر رہے ہیں وہیں سمتھ فیلڈ جیسی فوڈ انڈسٹری سے وابستہ ملازمین کو لازمی طور پر خطرناک ماحول میں رہ کر کام کرتے رہنا ہے.
بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے ایڈی ٹومر کہتے ہیں یہ ملازمتیں پورے امریکہ میں اوسط ملازمت سے کم ادائیگی کرتی ہیںلہذا گھرو ں میں مددگار عملہ، کیشیئر وغیرہ ان سب افراد کو بذاتِ خود جا کر کام کرنا پڑتا ہے اور ان ملازمین میں سے زیادہ تر افریقی امریکن یا ہسپانوی نژاد افراد ہیں. سمتھ فیلڈ کے ملازمین کی بڑی تعداد تارکین وطن اور مہاجرین پر مشتمل ہے جو میانمار، ایتھوپیا ،نیپال، کانگو اور ایل سلواڈور جیسے مقامات سے تعلق رکھتے ہیں‘اس پلانٹ میں 80 مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں اوسط فی گھنٹہ اجرت کا تخمینہ 14 سے 16 ڈالر فی گھنٹہ ہے یہ گھنٹے لمبے ہیں کام سخت محنت طلب ہے اور اکثر ایک پروڈکشن لائن پر کھڑے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ دونوں اطراف سے اپنے ساتھی کارکنوں سے ایک فٹ سے بھی کم فاصلے پر ہیں.
نیویارک ٹائمزکا کہنا ہے کہ ملک بھر کے فوڈ پروسیسنگ پلانٹس میں کورونا وائرس پھیلنے کی اطلاعات ہیں جس سے امریکہ کی فوڈ سپلائی چین درہم برہم ہو سکتی ہے کولوراڈو میں واقع جے بی ایس کے میٹ پیکنگ پلانٹ کو پانچ ملازمین کی ہلاکت اور 103 تصدیق شدہ کیسز کے بعد بند کرنا پڑا آئیووا میں ٹائسن فوڈز پلانٹ کے دو ملازمین بھی ہلاک ہو گئے جبکہ 148 بیمار ہیں.
سو فالز جیسی گوشت پروسیسنگ کی بڑی سہولت کی بندش، سپلائی چین میں بڑے پیمانے پر خلل ڈالنے کا باعث بنتی ہے سو فالز پلانٹ کو خنزیر فروخت کرنے والے 550 کسانوں کے پاس اب مویشی فروخت کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی‘فیکٹری کی بندش کا اعلان کرتے ہوئے سمتھ فیلڈ کے سی ای او نے گوشت کی فراہمی کے سلسلے میں شدید تباہ کن نتائج سے خبردار کیا تھا. لیکن سمتھ فیلڈ کے ملازمین، ان کی یونین کے نمائندوں اور سو فالز میں تارکین وطن کی برادری کے حامیوں کے مطابق اس پلانٹ کو بند ہونے سے بچایا جا سکتا تھا‘ان کا الزام ہے کہ ابتدائی طور پر حفاظتی سامان کی درخواستوں کو نظرانداز کیا گیا بیمار کارکنوں کو کام جاری رکھنے کا کہا گیا اور وائرس کے پھیلاﺅ سے متعلق معلومات کو ان تک پہنچنے سے روکا گیا یہ سب جاننے کے باوجود کہ ان افراد کے خاندان اور دوسرے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں.
ہسپانوی زبان کے جریدے کا کہنا ہے کہ کیو پاسا سو فالز کی بانی نینسی رینزا کا کہنا تھا کہ وہ ہفتہ بھر سے سمتھ فیلڈ کے پریشان حال ملازمین کے متلعق سن رہی ہیں نینسی پوچھتی ہیں اگر وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ کمپنی کام کرتی رہے تو پھر یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ یہ کمپنیاں وہ سب کچھ کر رہی ہیں جو انہیں ملازمین کی حفاظت کے لیے کرنا چاہیے؟ادھر امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ تھ فیلڈ سے متاثرہ ملازمین‘دیئے جانے والے معاوضوں اور دیگر معلومات دریافت کرنے کی کوشش کی مگر کمپنی نے اس پر جواب دینے سے انکار کر دیاکمپنی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملازمین اور کمیونٹیز کی صحت اور حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے.
وبا کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کی سخت ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ہم نے فروری سے مارچ کے اوائل تک سخت پروٹوکول کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا تاکہ ہماری فیکٹری میں کووڈ 19 کے کسی بھی ممکنہ کیس کا موثر طریقے سے بندوبست کیا جا سکے سو فالز اے ایف ایل، سی آئی او کے صدر کوپر کاراﺅے کے مطابق یونین کے عہدیداروں نے مارچ کے اوائل میں سمتھ فیلڈ انتظامیہ سے رابطہ کیا تاکہ کارکنوں کی حفاظت کے لیے متعدد اقدامات کیے جا سکیں جن میں شفٹوں اور دوپہر کے کھانے کے نظام الاوقات شامل ہیں.
ان اقدامات کے حساب سے فیکٹری کے کیفے ٹیریا میں بیک وقت 500 ملازمین کھڑے ہو سکتے ہیں کوپر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ذاتی حفاظتی لباس کی بھی درخواست کی جن میں ماسک اور اوور کوٹ، دروازوں اور صفائی کے سٹیشنوں پر درجہ حرارت کی جانچ پڑتال شامل تھی کوپر کے مطابق یہ کسی بھی ملازم کے مثبت ٹیسٹ آنے سے پہلے کی بات ہے لیکن انتظامیہ نے اپنے ہاتھ کھینچ لیے اور کارکنوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا.
یونین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کمپنی نے ملازمین کو مناسب حفاظتی سامان مہیا نہیں کیا حتی کہ این 95ماسک یا چہرے کے لیے دوسرے ماسک مہیا کرنے کی بجائے ایک جالی نما ماسک دیا ہے جو بنیادی طور پر چہرے کے بالوں کو گرنے سے روکتا ہے. سمتھ فیلڈ فوڈز دنیا میں خنزیر کا گوشت پراسیس کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے جسے 1936 میں ریاست ورجینیا کے علاقے سمتھ فیلڈ میں اسے قائم کیا گیااس کی ملکیت چینی کمپنی ڈبلیو ایچ گروپ لمیٹڈ کے سی ای او، ارب پتی وان لانگ کے پاس ہے.
2018 میں اس کے ملازمین کی تعداد 54000 اوراس نے 15 بلین فروخت کا ریکارڈ قائم کیا اس کمپنی کے امریکا کی 20سے زائدریاستوں کے علاوہ جرمنی، رومانیہ، میکسیکو، پولینڈ ‘ برطانیہ اور چین میں بھی پلانٹس ہیں. ڈبلیو ایچ گروپ نے 2013 میں سمتھ فیلڈ کو 4.7 بلین ڈالر میں خریدا تھا ‘ 8 اپریل کو جنوبی ڈکوٹا سٹیٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے تصدیق کی کہ پلانٹ میں کورونا وائرس کے 80 تصدیق شدہ مریض موجود ہیں متعدد ملازمین نے بتایا کہ انہیں یہ ساری معلومات سمتھ فیلڈ انتظامیہ کے بجائے میڈیا رپورٹس سے ملیں.
ادھر امریکا کی ایک اور بڑی فوڈ سپلائی کمپنی ٹائسن فوڈز کے ترجمان نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اگر ان کا کوئی ملازم کسی ایسے شخص سے رابطے میں رہا ہے جس میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے تو ان کی کمپنی پالیسی کے مطابق انہیں ملازمین کو اس بارے میں مطلع کرنا ہو گا‘کچھ ملازمین نے اپنے ساتھ پلانٹ میں ماسک لانا شروع کر دیے دوسروں نے خاندان سے الگ ہو کر رہنا شروع کر دیا.
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے دی جانی والی امدادی رقوم کے اہل صرف امریکی شہری ہیں غیرقانونی تارکین وطن کے لیے ایسی کوئی سہولت نہیں جبکہ امریکا کی بڑی ‘بڑی فوڈ پراسسنگ کارپوریشنز اپنے منافع بڑھانے کے لیے غیرقانونی تارکین وطن کا انتخاباب کرتی ہیں کیونکہ وہ سستی لیبر شمار ہوتے ہیں نہ صرف وہ ریاستوں کی مقررکردہ کم سے کم فی گھنٹہ اجرت سے بھی کم معاوضے پر کام کرتے ہیں بلکہ کمپنیوں کو انہیں میڈیکل‘انشورنس سمیت دیگر الاﺅنسزبھی نہیں دینے پڑتے.
غیرقانونی تارکین وطن کمپنیوں کے ظالمانہ سلوک کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے سے بھی گریزکرتے ہیں کیونکہ ایسی صورت میں انہیں امریکا بے دخل کیئے جانے کا خطرہ ہوتا ہے. سمتھ فیلڈ نے ملازمین کو صرف 500 ڈالر کا بونس دینے کی پیش کش کی ہے تاکہ وہ مہینے کے اختتام تک اپنی شفٹ پر کام کرتے رہیں‘اپنے بیان میں سمتھ فیلڈ کا کہنا تھا کہ یہ بونس سمتھ فیلڈ کے #ThankafoodWorker اقدام کا ایک حصہ ہے کمپنی کا کہنا ہے کہ جو ملازمین کووڈ 19 کے خطرے کے پیش نظر یا تشخیص کی وجہ سے کام پر نہیں آ پا رہے انہیں بھی بونس دیا جائے گا کمپنی کی جانب سے یہ اعلان کئی ورکروں کی جانیں جانے اور سینکڑوں کے وائرس کا شکار ہونے کے بعد کیا گیا.
ساﺅتھ ڈکوٹا کے گورنر کے مطابق سی ڈی سی کے عہدیداروں کو واشنگٹن ڈی سی سے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وہاں بھیجا گیا تھا تاکہ وہ بتا سکیں کہ پلانٹ کو دوبارہ کھولنے کے لیے کیا کرنا ہو گا. اسی دوران سمتھ فیلڈ نے میسوری اور وسکونسن میں اپنی دو اور سہولیات بند کرنے کا اعلان کیا جہاں ملازمین کی ایک کم تعداد کے کووڈ 19 ٹیسٹ مثبت آئے تھے.