دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلائو کی وجہ کیا بنی؟ بڑی معاشی طاقتوں کی تنظیم جی20 کے وزرائے صحت کے اجلاس کا مشترکہ ا علامیہ جاری

یورپی یونین اور19ممالک کے اشتراک سے بنائی گئی دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں کی تنظیم جی20 کے وزرائے صحت نے کمزور اور ناقص نظام صحت کو دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلائو کی وجہ قراردیدیا ہے. سعودی دارالحکومت ریاض میں جاری جی ٹوئنٹی ممالک کے وزرائے صحت کے آن لائن اجلاس میں کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال، اقدامات اور صحت کے نظام میں موجود خامیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی عرب کے وزیر صحت کورونا سے متعلق ایک ہنگامی میٹنگ کی وجہ سے ورچوئل اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے. وزرا کا کہنا

تھا کہ کورونا کے باعث عالمی برادری کی وبا سے نمٹنے کی صلاحیتیں اور کمزوریاں سامنے آگئی ہیں‘اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نظام صحت بہتر بنانے کی عالمی کوششوں کی ضرورت ہے. اجلاس میں عالمی ادارہ صحت اور عالمی بینک سمیت بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کے علاوہ اسپین، سنگاپور، اردن اور سوئٹزرلینڈ کے رہنمائوں کو بھی مدعو کیا گیا‘جی 20 اجلاس کے مشترکہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سیعالمی ادارہ صحت کی مالی اعانت روکنے پر کوئی رد عمل نہیں دیا گیا.ادھر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک بار پھر کورونا وائرس کو قابو کرنے کے لیے لاک ڈائون میں بتدریج کمی لانے پر زور دیا ہے‘ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اگر لاک ڈائون کی پابندیوں کو عجلت میں ہٹا دیا گیا تو اس سے وبا کے پھیلائومیں اضافہ ہو سکتا ہے‘ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ لاک ڈائون کے اقدامات مثبت ثابت ہوئے ہیں اور امید ظاہر کی کہ لوگ یقیناً ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے.انہوں نے کہا کہ کورونا کے بعد عوام اپنے معاشروں کو رواں دواں رکھنے کے لیے زندگی کے نئے انداز اپنانے کے لیے تیار ہوں گے۔آن لائن پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ جب تک اس وبا کے خلاف ویکسین دریافت نہیں ہوتی تب تک وبا کے خلاف احتیاطی تدابیر اپنانا ہی نیا قاعدہ ہو گا خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ لاک ڈائون میں نرمی بہت ہی خطرناک ثابت ہو گی.عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈرس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ لاک ڈائون میں نرمی سے اموات میں تیزی آ سکتی ہے کئی ملکوں میں معاشی مشکلات ہیں لیکن تمام ممالک کو لاک ڈائون میں نرمی سے متعلق بہت ہی احتیاط کرنی چاہیے. انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون میں نرمی سے متعلق حکمت عملی بنانے کے لیے کچھ ملکوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاہم کئی ممالک خود ہی شہریوں کے گھروں پر رہنے کی پابندی ہٹانے کی تیاری کر رہے ہیں‘ڈاکٹر ٹیڈرس نے کہا کہ یورپی ممالک میں عالمی وبا کے کیسز میں کچھ کمی آئی ہے تاہم افریقہ سمیت دوسرے ممالک میں کورونا کیسز بہت تیزی سے بڑھ رہےہیں۔