چینی بحران سکینڈل ،خسروبختیار اور اہم شخصیت کیلئے جاسوسی کرنے والا ایڈیشنل ڈائریکٹر معطل

رہنما تحریک انصاف خسروبختیار اور اہم شخصیت کیلئے جاسوسی کرنے والا شوگر کمیشن کا ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفیٰ معطل کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق چینی سکینڈل ، فارنزک رپورٹ کی تیاری سے متعلق ملزموں کو اہم معلومات فراہم کرنے کے الزام میں ایف آئی اے نے ایڈیشنل ڈائریکٹر سجاد مصطفیٰ باجوہ کو معطل کرتے ہوئے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
الزام عائد کیا گیا ہے کہ سجاد باجوہ نے چینی بحران پر معلومات خسروبختیار اور ایک اہم شخصیت کو دی ہیں۔ ذرائع کایہ بھی کہنا ہے کہ سجاد نے شوگر مافیا کو فائدہ پہنچانے کیلئے شوگر کمیشن کو غلط معلومات فراہم کی۔ سجاد باجوہ چینی سکینڈل پر جاری تحقیقات کیلئے بنائی جانے والی ٹیموں میں سے ایک کا سربراہ بھی بتایا گیا ہے۔

واضح رہے وزیراعظم کو چینی بحران پر پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چینی برآمد کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، برآمدکنندگان نے صورتحال سے دوہرا فائدہ اٹھایا ہے، پہلے سبسڈی حاصل کی اور پھر مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بڑھا کر بھاری منافع بھی کمایا ۔

چینی کی قیمت دسمبر 2018 میں 55 روپے فی کلو سے جون 2019 میں 71.44 روپے فی کلو تک بڑھا دی گئی تھی حالانکہ جی ایس ٹی میں اضافہ کا اطلاق یکم جولائی 2019 میں ہوا تھا۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2019 میں چینی کی برآمد کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں قیمت فوراً بڑھنا شروع ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق چینی کی برآمد پرحکومت کی جانب سے سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والوں میں مخدوم عمر شہریار ( مخدوم خسرو بختیار کے رشتہ دار) کا ملکیتی آر وائے کے گروپ شامل ہے جس نے مجموعی برآمدی سبسڈی کا 15.83 فیصد حاصل کیا جو 3.944 ارب روپے بنتا ہے۔
چوہدری منیر اور مونس الٰہی بھی اس گروپ میں پارٹنرز ہیں۔ اسی طرح جہانگیر خان ترین کے جے ڈی ڈبلیو گروپ نے برآمدی سبسڈی کا 12.8 فیصد حاصل کیا جو 3.058 ارب روپے ہے۔ ہنزہ شوگر ملز نے 11.56 فیصد سبسڈی حاصل کی جو 2.879 ارب روپے ہے، ان شوگر ملز کی ملکیت محمد وحید چوہدی، ادریس چوہدری اور سعید چوہدری کے پاس ہے۔ شریف فیملی کی ملکیتی شوگر ملز نے مجموعی برآمدی سبسڈی کا 5.9 فیصد حاصل کیا جو 1.472 ارب روپے ہے۔