ہمیں اب کورونا کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں اب کورونا کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا، پتا نہیں کورونا دو، چار ماہ کب ختم ہوتا ہے، یہ نہیں کہہ سکتے کہ لاک ڈاؤن کرنے سے کورونا ختم ہوجائے گا،آگے مزیدمشکل وقت آرہا ہے، قوم کوساتھ دینا ہوگا، قوم کو کہتا ہوں کہ مجھ سمیت سب کواحتیاط کرنی چاہیے،یہ وائرس ایسی ہے جو تیزی سے پھیلتی ہے۔
انہوں نے نجی ٹی وی چینلز پر براہ راست احساس ٹیلی تھون پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ایسی کبھی صورتحال نہیں آئی جس کا دنیا کو آج سامنا ہے،لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کی جمع پونجی خرچ ہو رہی ہے۔حکومت نے سب سے بڑا پیکج دیا ہے، ڈاکٹر ثانیہ نے احساس پروگرام بنایا، وہ بڑا شفاف اور ڈیٹا بیس پروگرام ہے، ایک حکومت کررہی ہے، لیکن آئندہ جو وقت آرہا ہے، اس میں پوری قوم کو شرکت کرنا پڑے گی۔

میں کوشش کررہا ہوں کہ احتیاط کروں کم ہے، احتیاط سب کو کرنی چاہیے، ہمیں خوش فہمی ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں ابھی امریکا یا یورپ کی طرح کے حالات کیوں نہیں ہوئے؟ میں قوم کو کہتا ہوں کہ احتیاط کریں، ایسی وائرس کبھی نہیں آئی جس تیزی سے یہ پھیلتی ہے، اس لیے ہم کوشش کررہے ہیں کہ سماجی فاصلہ اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر کبھی رحم نہیں آیا، کیونکہ جب رحمہوجائے تو پھر جیتتے نہیں، میں نے 1970ء میں سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی، لیکن مارکیٹ کریش کرگئی۔
یہ بہت بڑی نعمت ہے جب لوگوں کو سمجھ آجائے۔ جب انسان اللہ کی راہ میں دیتا ہے تو کبھی بھی انسان خسارے میں نہیں رہتا، اللہ کسی نہ کسی ذرائع سے انسان کو ضرور دیتا ہے۔امیری کا انسان کے بینک بیلنس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، بلکہ امیری انسان کے اندر ہوتی ہے جو خوشی کی صورت میں ملتی ہے جب انسان اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پتا نہیں کورونا دوچار یا چھ ماہ کب تک رہتا ہے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ لاک ڈاؤن کرنے سے کورونا ختم ہوجائے گا، ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اب ہمیں کورونا کے ساتھ رہنا پڑے گا۔
اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جا رہے ہیں، ہم لاک ڈاؤن کرکے اتنے زیادہ لوگوں تک نہیں پہنچ سکتے، یہ جو پیسا اکٹھا کررہے ہیں اس پیسے سے مستحق لوگوں کی امداد جاری رکھیں گے، اسمارٹ لاک ڈاؤن سے ہمیں پتا چلے گا، جہاں وائرس پھیلے گا اس کو لاک ڈاؤن کردیں گے۔ امریکی صدرٹرمپ سے کل رات بات ہوئی ، وہاں بھی معیشت متاثر ہے، 40 ہزار لوگ مرگئے ہیں، ہم ملک بند کرکے کبھی بھی پورے ملک کی مدد نہیں کرسکتے۔