کورونا وائرس، ہم ابھی نتائج کے وسط تک بھی نہیں پہنچے، بل گیٹس

ہم ابھی کورونا وائرس کے نتائج کے وسط میں بھی نہیں پہنچے۔عالمی وبا کورونا وائرس کے بارے میں ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں بانی مائیکروسافٹ بل گیٹس کا کہنا تھا کہ کوروناو ائرس ایک بدترین خواب ہے، ہمیں ابھی اس کے مزید سنگین نتائج دیکھنے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں منظوری سے قبل بھی ویکسین تیار کرنے والی کئی کمپنیوں کو مالی امداد فراہم کریں گے تاکہ جتنا جلدی ہو سکے وہ اسے دوسروں تک پہنچانے کے لیے تیار ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کافی برسوں سے کسی عالمی وبا کی وجہ سے پریشان تھے۔ یا دہے کہ بل گیٹس فاؤنڈیشن عالمی مالیاتی ادارے کو فنڈ دینے والی سب سے بڑی تنظیم ہے۔بل گیٹس نے کورونا کا ورلڈ وار ٹو سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تکلیف کو جھٹلانا مشکل ہو گا جو سالوں تک محسوس کی جائے گی۔

اس سے قبل بھی بل گیٹس عالمی دنیا کو آگاہ کر چکے ہیں کہ کورونا وائرس کے بعد آنی والی وبائیں مزید خطرناک ہوں گی۔

بل گیٹس نے کہا تھا کہ کورونا قدرتی وبا ہے اور خوش قسمتی سے اموات کی شرح بھی کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلی وبائیں قدرت کے ساتھ حیاتیاتی دہشت گردی سے بھی آسکتی ہیں۔اس کے علاوہ کچھ دن قبل بات کرتے ہوئے بل گیٹس نےا یک اور انٹرویو میں کہا تھا کہ جب تک کورونا کی ویکسین تیار نہیں ہو جاتی،اس کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ویکسین تیار کرنے کے لئے 2021 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ چین کے شہر وہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے اب تک دنیا بھر میں 28 لاکھ سے زیادہ افراد کو متاثر کردیا ہے جبکہ 1 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ افراد کورونا کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین کی جانب سے کورونا کی ویکسین تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس حوالے سے ابھی تک کسی قسم کی کوئی کامیابی سامنے نہیں آئی۔ تا ہم لوگوں کو دنیا بھر میں آئسولیشن اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔