سعودی عرب میں پھنسے بغیر اقامہ پاکستانیوں کی واپسی مشکل ہوگئی

سعودی عرب میں پھنسے بغیر اقامہ پاکستانیوں کی واپسی مشکل ہوگئی، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جن پاکستانیوں کے پاس اقامے نہیں ، ان کو لیبرکورٹ جانا ہوگا، لیبر کورٹ میں بقایاجات کی واپسی کے ساتھ ان کا خروج ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ سعودی عرب میں پھنسے ایسے پاکستانی جن کے پاس اقامے نہیں ہیں، اور ان پاکستانیوں نے بقایاجات بھی ادا کرنے ہیں۔
تو ان کو چاہیے کہ لیبر کورٹ جائیں وہاں بقایاجات کی ادائیگی کے بعد ان کا خروج لگ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بغیر اقامے والے پاکستانی ایک سال سے سعودی عرب میں ہیں لیکن ان وک اقامے جاری نہیں ہوسکے۔ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کی طرف سے ان سے کئے گئے وعدے پورے کئے ہیں۔

پروموٹر کو بھاری معاوضے ادا کئے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہن ے کہا کہ ان کا سعودی عرب سے خروج صرف لیبر کورٹ کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔

جدہ میں پاکستانی قونصل خانہ ان کے لئے راشن کا انتظام کر رہا ہے۔ اور پاکستان میں میں متعلقہ حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ امید ہے کہ پروموٹر کے خلاف جلد کاروائی شروع کردی جائے گی۔ واضح رہے خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں پاکستانی مزدور پریشان ہیں انہوں نے حکومت سے واپسی کیلئے مدد کی اپیل کی ہے۔ مزدوروں نے بتایاکہ سعودی عرب میں چھ سات ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں، ہم لوگ بغیر اقامے کے ہیں اور ہمارا ابھی تک اقامہ نہیں بن سکا۔
جس کی وجہ سے سعودی عرب میں پھنس گئے ہیں۔ پاکستان سے ویزے خرید کر محنت مزدوری کیلئے سعودی عرب آئے تھے، لیکن یہاں پر وباء پھیلنے کی صورت میں سب کچھ بند ہوگیا ہے۔ اور ہم یہاں پر پھنس گئے ہیں۔ اب تو ہمارے پاس پیسے بھی نہیں ہیں۔ ہماری کیا غلطی ہی ایک ماہ سے زائد عرصہ سے بغیر کام کے بیٹھے ہیں، کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں۔ اگر حکومت نے ہمارے لیے کچھ نہ کیا تو خودکشی جیسے اقدام اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے۔