ایف بی آر نے 3 لاکھ 10 ہزار سے زائد آڈٹ کیسز خاموشی سے بند کردیے

ایف بی آر نے 3 لاکھ 10 ہزار سے زائد آڈٹ کیسز خاموشی سے بند کردیے ہیں، تفصیلات کے مطابق فیصرل بورڈ آف ریونیو نے لاکھ کیسز میں سے 3 لاکھ 10 ہزار سے زائد آڈٹ کیسز بند کردیے ہیں۔ اس حوالے سے جمعہ کو نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا، ذرائع کے مطابق آڈٹ کیسز بند ہونے سے 2014سے 2017 کے درمیان بروقت ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اور ٹیکس کی ادائیگی میں ناکام رہنے والے افراد، انجمنوں اور کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔
یہ آڈٹ کیسز انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 214ڈی کے تحت خودکار طور پر منتخب کیے گئے تھے اور انکو بند کرنے کا خیال ممبر ٹیکس پیئرز آڈٹ ندیم رضوی نے پیش کیا تھا جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ نئے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز ہوں گے۔

ایف بی آر نے اب فیصلہ کیا ہے کہ جن کیسز میں اس کے پاس تھرڈ پارٹی انفارمیشن اور سابقہ ڈکلیریشنز سے میچ کرتا ڈیٹا نہیں ہوگا، ایسے کیسز بند کردیے جائیں گے۔

سیکشن 214ڈی کے تحت منتخب کیے گئے آڈٹ کیسز کو بند کرنے کے لیے ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس میں نئی شق 214E متعارف کرائی تھی۔ ایف بی آر نے جمعہ کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ ٹیکس ایئر 2015، 2016 اور 2017 کے لیے سیکشن 214D کے تحت منتخب کردہ کیسوں کے آڈٹ کے لیے فردواحد، افراد کی انجمنوں اور کمپنیوں کے لیے ایک طریقہ کار تشکیل دیا گیا ہے جس کے مطابق تمام فیلڈ فارمیشنز آڈٹ کیسز مکمل کریں گے۔
اس سلسلے میں ایف بی آر کا آئی ٹی ونگ تمام کمشنروں کو متعلقہ ڈیٹا فراہم کرے گا جو اسکروٹنی کے ذریعے آڈٹ مکمل کریں گے۔ خیال رہے کہ ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کو یہ پیشکش کی تھی کہ وہ 31 دسمبر 2018 تک رضاکارانہ طور پر اپنے ریٹرنز پر نظرثانی کریں اور 25فیصد اضافی ٹیکس ادا کرکے اپنے کیسز ختم کرالیں۔ مگر ایف بی آر اس معاملے پر پیشرفت نہیں کرسکا اور 6 لاکھ سے زائد کیسز کھلے رہے۔