ترقی پذیر ممالک کے قرضے معاف کرنے سے بحران ختم نہیں ہو گا،میاں زاہد حسین

ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین ،پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے قبل ہی لبنان اور ارجنٹینا دیوالیہ ہو چکے تھے جبکہ کئی دیگر ممالک دیوالیہ ہونے کے قریب تھے۔
وبا ء سے قبل پاکستان سمیت چونتیس ممالک کو قرضے واپس کرنے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں جبکہ اب ایسے ممالک کی تعداد ایک سوسے تجاو ز کر گئی ہے۔پاکستان سمیت درجنوں ممالک کی تقریباً ساری آمدنی قرضوں کی ادائیگی پر لگ جاتی ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ نہیں بچتا ۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ کئی ممالک اپنے بجٹ میں صحت کے شعبہ کے مقابلہ میں دو،تین اورچار گنا زیادہ رقم ترقی یافتہ ممالک کوقرضوں کی ادائیگی کے لئے رکھ رہے ہیں جو انسانیت پر ظلم ہے۔

دنیا میں ایسے ممالک بھی موجود ہیں جہاں ایک بھی وینٹی لیٹر یا آئی سی یو موجود نہیں جبکہ لاکھوں افراد نے کبھی ڈاکٹر کی شکل بھی نہیں دیکھی۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ ان حالات میں غریب ممالک کے قرضوں کی معافی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے جبکہ امیر ممالک اس پرسنجیدگی سے غور کرنے کو تیار نہیں۔ بالفرض محال اگر ترقی پذیر ممالک کے تمام قرضے معاف بھی ہو جائیں تو یہ ریلیف وقتی ہو گا اورچند سال کے اندر غربت، جہالت، بیماری اور تنازعات دوبارہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینگے کیونکہ عالمی اقتصادی نظام متوازن نہیں ہے۔
اس نظام کو کسی جوئے خانے کی طرز پر چلایا جا رہا ہے جسے کیسینو اکانومی کہا جاتا ہے۔ امیر ممالک اور عالمی ادارے اسے متوازن بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔کورونا وائرس موجودہ بحران کی وجہ نہیں بلکہ اس نے عالمی معیشت کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے۔1970 کی دہائی تک دنیا کے اکثر ممالک عوامی مفاد کے مطابق فیصلے کرتے تھے مگر اسکے بعد فیصلہ سازی کا کام چند بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے جن کی ساری دلچسپی اپنامنافع بڑھانے تک محدود ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے تمام قابل ذکر ممالک کی معیشت کو بڑے بزنس گروپوں اورسٹے بازوںنے ہائی جیک کر لیا ہے جنھیں صحت، تعلیم اور ماحول جیسے غیر منافع بخش شعبوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ موجودہ معاشی نظام اب بھی عوام سے انکی جمع پونجی چھین کر اشرافیہ کے سپردکر نے میں مصروف ہے اور ان حالات میںدنیا میں امن ،پائیدار اقتصادی ترقی اور عوام کے مصائب میں کمی ناممکن ہے۔ہماری حکومت کو چاہئے کہ براہ راست ٹیکس کے نظام کو موثر بنائے اور بالواسطہ ٹیکس کو ممکنہ حد تک کم کرے تاکہ پریشان حال عوام کوکچھ ریلیف مل سکے۔