وفاقی حکومت کشمیر کی طرح کورونا کے محاذ پر بھی ناکام ہوگئی، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کشمیر کی طرح کورونا وباء میں بھی قومی اتحاد قائم کرنے میں ناکام رہی، وزیراعظم دن کو کچھ رات کوکوئی بیان دیتا ہے، وفاق نے سندھ کوصحت، ٹیسٹنگ ، ریلیف آپریشن کیلئے ایک روپیہ امداد نہیں دی،9مئی تک لاک ڈاؤن کس نے نافذ کیا؟ لاک ڈاؤن کی تجویزخیبرپختونخواہ اور پنجاب حکومت نے دی۔
انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے دن بھی اسی ہال میں پریس کانفرنس کی تھی کہ وباء سے ملکر لڑنا ہے، میں سیاست کو بھول جاتا ہوں، میرا وزیراعظم اور ہیلتھ منسٹر عمران خان ہے، لیکن اس کے باوجود پہلے دن سے وزیراعظم ، اور نمائندے میرے صوبے اور حکومت پر سیاسی حملے کر رہے ہیں۔

ہم نے کبھی جواب نہیں دیا، عمران خان اور ان کے وزراء ہر بیان میں صوبہ سندھ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ہم جتنی بھی کوشش کی، وفاقی حکومت نے ہرموقع پر ہماری کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہے۔وفاقی حکومت نے تفتان بارڈر پر ناکام ہوئی، سارا بوجھ بلوچستان کی صوبائی حکومت پر ڈال دیا گیا ، جبکہ ان کو کوئی سامان بھی نہیں دیا، وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو نیچا دکھایا، پنجاب میں تبلیغی جماعت کا اجتماع ہوا، لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے کسی صوبائی حکومت کو کوئی سپورٹ نہیں دی گئی، جس سے رائیونڈ سے وائرس پھیلا۔
انہوں نے کہا کہ اس وزیراعلیٰ کوکوئی نہیں پوچھتا کہ کورونا کیسے کاٹتا ہے، جبکہ جس صوبے میں کورونا کے خلاف کام ہورہا ہے، اس وزیراعلیٰ پر تنقید کی جاتی ہے۔ اسلام آباد، جنوبی پنجاب، فاٹا، گلگت بلتستان کے بارے کوئی سوال نہیں پوچھا جاتا، اس قسم کی غفلت اور اپنی ذمہ داری کو چھوڑنا پاکستان کی تاریخ میں کسی نے ایسا حکمران نہیں آیا۔ نیشنل کورونا وباء میں ہمارا وزیراعظم قومی اتحاد قائم کرنے میں ناکام ہوا ہے، یہ وہی پہلا وزیر اعظم ہے جس نے کشمیر میں بھی قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا۔
تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم دن کو کچھ رات کو کچھ بیان دیتا ہے،اس وزیراعظم کو اندازہ ہی نہیں ہے، اس کے بیان کا اثر کیا ہوتا ہے۔ مجھے خوف ہے کہ اس وزیراعظم کے بیانیے کی وجہ سے ، ان کے نمائندوں کی وجہ سے کراچی کی صورتحال خدانخواستہ نیویارک کی طرح نہ ہوجائے۔ہم نے سب نے ملکر مقابلہ ہے، کراچی ملک کا گنجان آباد شہر ہے، اس مرض کا خطرہ غریب عوام کو ہے، کراچی میں سب سے زیادہ غریب رہتے ہیں، مجھے خوف لیاری اور لانڈھی کا ہے، کیونکہ یہاں کے لوگوں کو بالکل کوئی سپورٹ نہیں دیا جارہا۔
تاکہ وہ اپنی صحت اور ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ کرسکے۔ آج تک ہر صوبائی حکومت 90فیصد کام اپنے زور پر کررہی ہے، وفاقی حکومت کی طرف سے ہمیں ٹیسٹنگ اور صحت کی صلاحیت میں اضافے کیلئے ایک روپے کی سپورٹ نہیں ملی۔نہ ہی ہمیں ریلیف آپریشن اور معیشت کو سنبھالنے کیلئے ایک روپیہ ملا ہے، وفاق اس وقت کیا کام کرنے کو تیارہے؟ وفاق کا سب سے زیادہ خرچہ دفاع اورگردشی قرضوں کی ادائیگی میں جاتا ہے،اس وقت نہ جنگ لڑنی ہے، نہ ہی ڈیبٹ پر زور دینا ہے، ہم نے سب سے زیادہ وباء پر توجہ دینی ہے۔
جب کوئی صوبہ ہیلتھ اور ٹیسٹنگ اور ہسپتالوں میں بیڈز بڑھانے کی مدد مانگتا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہم وفاقی حکومت کو گالی دے رہے ہیں، یا تنقید کررہے ہیں۔یہ کون سے ایلیٹ ہیں جنہوں نے ہم پر لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے۔اب 9مئی تک جولاک ڈاؤن کیا گیا ہے، یہ خیبرپختونخواہ اور پنجاب حکومت کی تجویز پر کیا گیا ہے۔اس لاک ڈاؤن کا اعلان وفاقی وزیر نے کیا ہے۔
اس وزیراعظم کو کون سمجھائے گا کہ کنٹینر سے اترو، وزیراعظم بنو، عوام آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔میں نے پہلے دن سے کہا تھا کہ دومحاذ ہیں، ایک کورونااور دوسرا معیشت کو سنبھالنا ہے، لیکن وفاق دونوں میں ناکام ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے لاک ڈاؤن کی سازش کی ہے، پہلے ووہان کو بند کیا، اٹلی، ایران ، کراچی، سندھ اور پھر پنجاب اور پھر باقی صوبوں کو بند کیا ہے ، پی ٹی آئی اپنے خلاف خود سازش کررہی ہے۔