سعودی عرب میں کورونا کے 1645نئے کیسز سامنے آگئے، مزید 7مریض جاں بحق

سعودی عرب میں کورونا کے 1645نئے کیسز سامنے آگئے، مزید 7مریض جاں بحق، تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں کورونا وائرس کے 1645نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مملکت میں متاثرہ افراد کی تعداد 28ہزار 656ہوگئی ہے جبکہ آج مزید 7مریضوں کے جاں بحق ہونے سے مملکت میں ہونے والی اموات کی تعداد 191 ہوگئی ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق آج مزید 342مریض صحتیاب ہو کر گھروں کو چلے گئے ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 4476 ہوگئی ہے۔
سعودی مملکت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جہاں کاروباری، تجارتی اور تعلیمی ادارے بند ہیں، وہیں مساجد میں باجماعت نماز پر پابندی لگانے کی خاطر انہیں بند کیا گیا ہے۔ صرف مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں انتظامیہ کے افراد کی جانب سے نمازیں ادا کی جا رہی ہیں۔

رمضان المبارک میں لوگ خواہش مند ہیں کہ کورونا کی وبا جلد سے جلد ختم ہوں تاکہ مساجد دوبارہ سے اللہ کے بندوں سے آباد ہو سکیں۔

ایسے وقت میں چند شرارتی افراد سوشل میڈیا پر خبریں پھیلا کر لوگوں کو جھوٹی خوش خبریاں سُنا رہے ہیں، تاہم جب حقیقت کا پتا چلتا ہے تو لوگوں کو اور زیادہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ المرصد ویب سائٹ کے مطابق سعودی پولیس نے سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والے ایک مقامی نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس نوجوان نے اپنی ویڈیو میں کہا تھا کہ سعودی حکومت نے مساجد کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اس حوالے سے جلد ہی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا۔
جبکہ کرفیو کے اوقات میں بھی مزید نرمی کی جا رہی ہے۔ حرمین شریفین میں بھی نمازیوں کی آمد کا سلسلہ جلد شروع ہونے والا ہے۔ یہ ویڈیو چند گھنٹوں میں ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ ہر کوئی یہ سوال پوچھ رہا تھاکہ مساجد کب تک کھُل جائیں گی۔ تاہم چند صارفین نے اس ویڈیو کو پولیس کو رپورٹ کر دیا ۔ جس کے بعد پولیس نے اس نوجوان کی شناخت کرنے کے بعد اس کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا۔