بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سیلف قرنطینہ کی پالیسی لانے پرغور

وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والوں کیلئے سیلف قرنطینہ کی پالیسی لا رہے ہیں، سیلف قرنطینہ پالیسی بننے کے بعد ہفتے میں 14 ہزار لوگوں کو واپس لاسکیں گے، خلیجی ممالک کی چند فلائٹس کے علاوہ باقی تمام ممالک سے آنے والوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ تمام اووسیز پاکستانی جو واپس آنا چاہتے ہیں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ان لوگوں نے بڑا صبر کیا ہے۔
ہمیں ان لوگوں کو بڑے محفوظ طریقے سے واپس لانا ہے۔جب سے ہم نے فلائٹ آپریشن شروع کیے تب سے ہم 20 ہزار پاکستانیوں کو بحفاظت وطن واپس لے آئے ہیں۔ہم اپنی پالیسی کے تحت 2 ہزار سے شروع ہوئے تھے، لیکن اب ہم نے تعداد بڑھا دی ہے، اگلے ہفتے ساڑھے 7 ہزار پاکستانیوں کو واپس لا رہے ہیں۔

ہماری خلیجی ممالک کیلئے اب باقاعدگی سے پروازیں چل رہی ہیں۔

امریکا، ملائیشیا، بنگلادیش، نیپال ، آسٹریلیا، کینیڈا، عراق اور چین کو اگلے ہفتے مزید کور کریں گے۔ یہاں سے پاکستانیوں کو واپس لائیں گے۔ دو اہم باتیں ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ ہم تیزی سے پاکستانیوں کو واپس نہیں لارہے؟ اس کی وجہ ہماری ہیلتھ پالیسی ہے کہ جو بھی پاکستانی واپس آئے ہم اس کا ٹیسٹ کریں۔ جس کے بعد ان کو قرنطینہ میں رکھنا پڑتا ہے۔
قرنطینہ کی صلاحیت ساڑھے سات ہزار تک ہے۔اس کے مطابق لوگوں کو واپس لا رہے ہیں۔اب اس پالیسی پر بھی نظر ثانی کررہے ہیں تاکہ زیادہ لوگوں کو واپس لایا جاسکے۔ وزیراعظم کی ہدایت پرہم سیلف قرنطینہ کی پالیسی پر غور کررہے ہیں، پھر ہم 14ہزار پاکستانیوں کو بھی واپس لاسکیں گے۔ عید تک پھر زیادہ لوگ لاسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر دیکھ رہے ہیں وہاں کہا جا رہا ہے کہ جن پاکستانیوں کو واپس لایا جارہا ہے، ان میں اکثریت کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، ایسا بالکل نہیں ہے ہاں کچھ خلیجی ممالک سے پروازیں آئیں تھیں ان میں چند پروازیں ایسی تھیں جن میں کچھ لوگ متاثر تھے، ان ممالک سے ہماری بات ہوئی ہے ، وزارت خارجہ نے ان ممالک سے مسئلہ اٹھایا ہے کہ دوبارہ ایسا نہ ہو، عمومی طور پر بیرون ممالک سے آنے والوں کی شرح یہاں مقامی شرح کے برابر ہے۔