ملک میں سیمنٹ کی کھپت اپریل 2020 میں 23.65 فیصد کم ہوکر 3.52 ملین ٹن ہوگئی

ملک میں سیمنٹ کی کھپت اپریل 2020 میں 23.65 فیصد کم ہوکر 3.52 ملین ٹن ہوگئی جو اپریل 2019 میں 4.61 ملین ٹن تھی کیونکہ کوویڈ 19 کے تباہ کن اثرات برآمدات اور مقامی کھپت پر پڑے اور دونوں کا شدید کمی کے ساتھ خاتمہ ہوا۔آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم ای) کے مطابق ، سیمنٹ کا شعبہ جو پہلے ہی انتہائی زیادہ ان پٹ لاگت برداشت کر رہا تھا ، ماہ کے پہلے نصف حصے میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔
مقامی کھپت میں کمی ملک کے شمالی اور جنوبی دونوں حصوں میں واقع ہوئی ہیں۔ اور مقامی کھپت اپریل 2020 میں 18.97 فیصد کمی سے 3.271 ملین ٹن رہی جو گزشتہ سال اسی مہینے میں 4.037 ملین ٹن تھی۔ مقامی کھپت میں ملک کے جنوبی حصے میں 49.85 فیصد کمی ہوئی جو گزشتہ سال اپریل 2019ء میں0.683 ملین ٹن تھی، گزشتہ ماہ اپریل میں کم ہو کر 0.342 ملین ٹن رہ گئی تھی۔

شمالی حصے کی مقامی کھپت 2.928 ملین ٹن اپریل 2020ء میں رہی۔

اس میں 12.68 فیصد کمی ہوئی جو گزشتہ سال اسی مدت میں 3.353 ملین ٹن تھی۔برآمدات کمی کا شکار رہیں جو 574,026 ٹن اپریل 2019ء میں تھیں اور کم ہو کر گزشتہ ماہ بامشکل 249,127 ٹن رہ گئیں۔اس طرح اس میں 56.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جنوبی علاقے کی برآمدات 27.97 فیصد کم ہوئیں جو اپریل 2019ء میں 343,611 ٹن سے کم ہو کر اپریل 2020ء میں 247,519 ٹن رہ گئیں۔ شمالی علاقے میں یہ صورت حال اور زیادہ خراب رہی جہاں برآمدات اپریل 2020ء میں صرف1609 ٹن رہ گئیں جو 99.3 فیصد کمی ہے کیونکہ گزشتہ سال اپریل میں یہ 230,415 ٹن تھیں۔
مجموعی کھپت میں معمولی 3.45 فیصد اضافہ ہوا اور ابتدائی دس ماہ میں 40.55 ملین ٹن ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ سال اسی مدت میں 39.20 ملین ٹن تھیں۔مالی علاقے کی مقامی کھپت 8.96 فیصد اضافے کے ساتھ جولائی تا اپریل 2020ء میں 28.941 ملین ٹن ہوگئی جو گزشتہ سال جولائی تا اپریل 2019ء میں 26.561 ملین تھی تھی۔ جنوبی زون میں مقامی کھپت میں29.11 فیصد شدید کمی آئی ۔ ابتدائی دس ماہ میں گزشتہ سال 6.936 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی تھی اور اب یہ کھپت 4.917 ملین ٹن پر پہنچ گئی تھی۔
جنوبی زون کی برآمدات میں 37.08 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال دس ماہ کے دوران 3.486 ملین ٹن تھیں اور اباضافے کے بعد رواں سال 4.779 ملین ٹن ہو گئیں۔ شمالی علاقے میں 13.63 فیصد کمی برآمدات میں ریکارڈ کی گئی اور یہ کم ہو کر 1.916 ملین ٹن رہی گئی جبہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 2.219 ملین ٹن تھی۔ترجمان اے پی سی ایم اے نے کہا کہ دنیا میں تعمیراتی سرگرمیوں میں کمی آنے کے بعد پاکستان میں بھی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے، پاکستان میں سیمنٹ سیکٹر پہلے ہی دبائو کا شکار رہا ہے۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس 1,460روپے (73 روپے فی بیگ تھا) ، 2012-2013 میں تھا اور اب یہ 3,380 روپے فی ٹن(169 روپے فی بیگ ) ہے اس طرح گزشتہ سات برسوں میں 132 فیصد اضافہ ہوا ہے۔کوئلے کی درآمد کی منصوبہ بندی کیونکہ وبائی صورت حال سے پہلے کی تھی اور سیمنٹ سیکٹر کو زیادہ قیمت ادا کرنی پڑی ۔ اس لیے توانائی کے ٹیرف، پیکیجنگ کی لاگت اور زیادہ تنخواہیں چھ سال قبل کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
شرح سود کی زیادہ شرح نے بھی بیلنس شیٹ کو متاثر کیا اس طرح زیادہ تر سیمنٹ کے کارخانے متاثر ہوئے۔ ترجمان اے پی سی ایم اے نے کہا کہ کنسٹرکشن پیکیج میں تعمیراتی شعبے کو چھوٹ دی گئی ہے لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے سیمنٹ مینوفیکچررز کے لیے ریلیف نہیں دیا گیا۔ اس لیے ٹیکس چھوٹ میں سیمنٹ سیکٹر کو بھی شامل کیا جائے۔ حکومت کو خاص طور پر گزشتہ دو سال میں عائد کئے جانے والے اضافی ٹیکسز اور ڈیوٹیز واپس لینا چاہیے تاکہ انڈسٹری کی سلامتی ممکن ہوسکے۔