پیسوامیونائزیشن کے علاج سے مریض صحت یاب ہونا شروع ہوگئے

ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا ہے کہ پیسوامیونائزیشن کے علاج سے مریض صحت یاب ہونا شروع ہوگئے، کچھ مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں، پلازمہ لگنے کے بعد ان مریضوں کے خلیوں سے وائرس ختم ہوگیا، صحتیاب مریضوں سے پلازمہ عطیہ کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔ انہوں نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ پاکستان میں دس روز قبل پیسوامیونائزیشن کے طریقے سے پلازمہ سے کورونا مریضوں کا علاج شروع ہوچکا ہے، 30 مریضوں کا علاج شروع کیا جاچکا ہے، لوگ صحت یاب ہوکرگھرجانا شروع ہوگئے ہیں۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ جس پہلے مریض کا پلازمہ سے علاج کیا گیاتھا وہ صحت یاب ہوکر گھر جاچکا ہے، مریض کو 30 اپریل کو پلازمہ لگایا جبکہ8 مئی کو مکمل صحت یاب ہوگیا ہے۔

حوصلہ افزا چیز یہ ہے کہ پی سی آر مشین سے اس مریض کا ٹیسٹ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ وائرس بالکل اس کے جسم کے خلیوں سے ختم ہوگیا ہے۔ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے جائیں اور تجربات بھی مزید ہوتے جائیں گے تو اس سے بہت بہتری آئے گی۔

پیسوامیونائزیشن سے علاج کی اجازت ابھی صرف پنجاب اور سندھ کے چند ہسپتالوں میں ملی ہے، ملک بھر کے شہروں میں اس لیے ابھی علاج نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس کے ایک سٹینڈرڈ طریقہ نظام ہونا چاہیے، وہ حکومتی سطح پر ہی ہوسکتا ہے۔امید ہے حکومت کی طرف سے اگلے ہفتے خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں بھی اجازت مل جائے گی۔چاروں صوبوں میں پاکستانی رہتے ہیں۔
کورونا کے ایسے مریض جوصحت یاب ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں ان پر ذمہ داری ہے کہ اپنا پلازمہ عطیہ کریں، اور ان پاکستانیوں کی جان بچانے کیلئے آگے آئیں جو کورونا کے تشویشناک مریض ہیں، اور آئی سی یو میں وینٹی لیٹرز پر ہیں۔شکر کریں آپ آئی سی یو یا وینٹی لیٹرز پر نہیں گئے بلکہ اللہ کے کرم سے آپ صحت یاب ہوگئے۔ اب دوسروں کی جان بچانے میں کردارادا کریں۔ایک مریض کے پلازمہ سے دو لوگوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔