بیرون ملک سے واپس آنے والے مسافروں کیلئے 48 گھنٹے قرنطینہ کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ

بیرون ملک سے واپس آنے والوں کیلئے 48 گھنٹے قرنطینہ کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا ہے کہ یرون ملک سے وطن واپس آنیوالوں کا فوری ٹیسٹ ہوگا اور ٹیسٹ کیلئے48گھنٹےانتظار کی شرط ختم کی جارہی ہے، ٹیسٹ کے نتیجے کے بعد طبی ماہرین فیصلہ کرینگے کہ کون گھر جائیگا اور کون نہیں۔
معاون خصوصی نے بتایا ہے کہ نئی پالیسی میں تمام مسافر بالکل تحفظ کے ساتھ اپنے گھر پہنچیں گے،ٹیسٹ مثبت آنے پر بھی اگر علامات زیادہ نہ ہوں تو گھر میں قرنطینہ کیا جاسکتا ہے،ایک لاکھ دس ہزار کے قریب پاکستانی وطن واپس آنے کے خواہش مند ہیں، ہماری کوشش ہے عید سے پہلے زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو واپس لایا جائے،اگر کورونا کیسز کی تعداد بڑھی تو پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگا۔

پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف نے کہا کہ صوبوں کی مشاورت کے بعد نئی پالیسی سامنے لائی جارہی ہے، اب جب مسافر آئیں گے تو فوری طور پر قرنطینہ یا ہوٹل میں ٹیسٹ کیا جائیگا، صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ مسافروں کا 24 گھنٹے میں جلد از جلد ٹیسٹ ہو اور نتیجہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی میں تمام مسافر بالکل تحفظ کے ساتھ اپنے گھر پہنچیں گے، مسافروں کا کورونا ٹیسٹ منفی آنے پر وہ گھر جائیں گے اور ٹیسٹ مثبت آنے پر بھی اگر علامات زیادہ نہ ہوں تو گھر میں قرنطینہ کیا جاسکتا ہے۔
معید یوسف نے کہا کہ ایک لاکھ دس ہزار کے قریب پاکستانی وطن واپس آنے کے خواہش مند ہیں، ہماری کوشش ہے عید سے پہلے زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو واپس لایا جائے، کوشش ہے کہ ہرہفتے 10 یا11 ہزار پاکستانی واپس وطن پہنچا سکیں، اس ہفتے، برطانیہ ، کینیڈا اور امریکا سے بھی پروازیں ہیں۔