جب کورونا پیک پر ہے تو لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا، خواجہ آصف

پاکستان مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی پیک کے وقت لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا، وزیراعظم نے بھی کہا کہ مئی میں وباء کی شدت ہوگی، موجودہ صورتحال حکومت کی 2 ماہ کی غفلت کا نتیجہ ہے، حکومت نے ہرموقعے پر گومگوں کی کیفیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف طبی معالجین کی تجویز پر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، پاکستان میں جیسے کورونا کی وباء بڑھتی گئی، ہم مزید نرمی کرتے چلے گئے، جب وزیراعظم نے کہا کہ مئی میں یہ وباء شدت اختیار کرے گی ، لیکن جب مئی آیا تو ہم نے لاک ڈاؤن ختم کردیا، یہ گومگوں کی پالیسی اپنائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ظفرمرزا نے بتایا کہ پاکستان میں 78 فیصد کیسز تفتان سے آئے، 17 فیصد دوسرے ممالک سے اور 5 فیصد مقامی کیسز ہیں، جہاں بھی امیگریشن ہوتی ہے ، وہاں سارا عملہ وفاقی حکومت کا ہوتا ہے۔

جب یہ 78 فیصد کیسز کا سیلاب آیا تو تب وفاقی ملازمین کہاں تھے؟ پہلی کھیپ 252 لوگوں کی آئی اور اپنے گھروں کو چلے گئے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ آج ہم حکومت کی 2اڑھائی مہینے کی غفلت کے باعث کھڑے ہیں، اگر ہم لاک ڈاؤن برقرار رکھتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔

جو ممالک لاک ڈاؤن کھول رہے ہیں وہاں کورونا کی پیک کا گراف نیچے آرہا ہے، لہذا حکومت کی یہ وضاحت اطمینان بخش نہیں۔ وزیرخارجہ نے ہمارے پاس 20 ہزار سے زیادہ ٹیسٹنگ صلاحیت ہے، جبکہ کمیٹی نے بتایا کہ ہم 15روز میں 50 ہزار یومیہ ٹیسٹنگ کریں گے، لیکن آج پندرہ دن بعد بھی بیس ہزار کررہے ہیں۔ سارا پاکستان کہہ رہا ہے کہ اعدادوشمار کو چھپایا جا رہا ہے، ہر ہیلتھ سیکٹر کا ریگولیٹر ہوتا ہے لیکن اس ریگولیٹر پر پابندی عائد ہے۔