وفاقی حکومت کا شوگرانکوائری کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے شوگرانکوائری کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کرنے کا فیصلہ کرلیا، انکوائری کمشین کی رپورٹ میں جہانگیر ترین، عمرشہریار، شہبازشریف فیملی اور مونس الہٰی کو ذمہ دار قراردیا گیا، ملوث افراد کیخلاف فوجداری ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں شوگر انکوائری کمیشن کے سربراہ ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے چینی کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔ واجد ضیاء نے چینی بحران کی فرانزک رپورٹ پر وفاقی کابینہ کو بریفنگ بھی دی۔ کابینہ کو شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ سے متعلق بتایا گیا کہ شوگر ملز نے کتنی چینی پیدا کی۔

چینی کہاں کہاں فروخت کی کتنا سٹہ لگایا، اس سب سے متعلق فرانزک آڈٹ رپورٹ میں تفصیلات شامل ہیں۔

رپورٹ میں چینی کے بےنامی خریدواروں، ای سی سی کے فیصلے سے متعلق امور، مختلف وزراء، حکام اور شوگر انڈسٹری حکام کے کردار کا بھی ذکر شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگرانکوائری کمیشن رپورٹ میں 9 ملوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ ان میں اومنی گروپ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ جبکہ رپورٹ میں جہانگیر ترین، عمر شہریار، شہبازشریف فیملی اور مونس الہٰی کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ شوگر اسیکنڈل میں ملوث افراد کیخلاف فوجداری ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں۔ اسی طرح شوگر اسکینڈل میں ملوث افراد سے ریکوری کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ شوگر اسکینڈل میں ریکوری کی رقم گنے کے متاثرہ کسانوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آج وفاقی کابینہ کا اجلاس اس لیے طلب کیا کہ آئندہ اجلاس عید کی چھٹیوں مین آ رہا تھا۔ اس لیے عید کے بعد اب فوری اجلاس نہیں بلایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں