اب تک جو اطلاعات آئی ہیں جہاز میں پاور نہیں تھی، سینیرپائلٹ طارق یحییٰ

جہاز میں پاور نہیں تھی، سینیرپائلٹ طارق یحییٰ نے کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے طیارے سے متعلق بتایا ہے کہ ابھی تک میسر معلومات کے مطابق طیارے میں پاور نہیں تھی اور اس کے دونوں انجن فیل ہوگئے تھے۔ سینئر پائلٹ نے بتایا ہے کہ جب انجن فیل ہوجائیں تو فورس لینڈنگ کرنی ہوتی ہے لیکن جہاز زیادہ اونچائی پر نہیں تھا، جہاز کے پائلٹ کو کہا گیا تھا کہ جہاز کو اوپر لیجائیں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اصل معلومات کا علم بلیک بکس کی رکارڈنگ سے ہوگا۔ دوسری جانب پی آئی اے کی حادثے کی شکار فلائٹ کا بلیک باکس کا اہم حصہ کوئیک ایکسس مل گیا ہے، کوئیک ایکسس میں ایئرٹریفک اور کاک پٹ کی گفتگو کا ریکارڈ ہوتا ہے، کوئیک ایکسس امداری کارکن کو ریسکیو سرگرمیوں کے دوران ملا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ بلیک باکس کا اہم حصہ کوئیک ایکسس مل گیا ہے۔

جس کو سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حوالے کردیا گیا ہے۔ کوئیک ایکسس ریکارڈر میں ایئرٹریفک کنٹرول روم کے علاوہ کاک پٹ کی گفتگو کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ کوئیک ایکسس رکارڈر امداری کارکن کو ریسکیو سرگرمیوں کے دوران ملا۔ بتایا گیا ہے کہ طیارہ فنی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا، طیارہ اس قدر نیچے تھا کہ پائلٹ اس کو اوپر اٹھانے میں ناکام رہا، شاید پائلٹ کے پاس طیارے کو دوبارہ اٹھانے کا مزید موقع ہی نہیں بچا تھا۔
واضح رہے کراچی ایئرپورٹ کے قریب آج سوا دو بجے کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی۔ ایئربس 320 میں 107 افراد سوار تھے۔ جن میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد شامل ہیں۔ ایئربس 320ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ سے کراچی کیلئے روانہ ہوئی۔ پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ کے دوران طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں