حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا بلیک باکس مل گیا

حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کا بلیک باکس مل گیا، بلیک باکس ڈی کوڈ کروانے کیلئے کمپنی کو بھیجا جائے گا، اس عمل میں 6 سے 7 ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ بلیک باکس کا اہم حصہ کوئیک ایکسس مل گیا ہے۔ جس کو سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حوالے کردیا گیا ہے۔ کوئیک ایکسس ریکارڈر میں ایئرٹریفک کنٹرول روم کے علاوہ کاک پٹ کی گفتگو کا ریکارڈ ہوتا ہے۔
کوئیک ایکسس رکارڈر امداری کارکن کو ریسکیو سرگرمیوں کے دوران ملا۔ بتایا گیا ہے کہ طیارہ فنی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا، طیارہ اس قدر نیچے تھا کہ پائلٹ اس کو اوپر اٹھانے میں ناکام رہا، شاید پائلٹ کے پاس طیارے کو دوبارہ اٹھانے کا مزید موقع ہی نہیں بچا تھا۔ واضح رہے کراچی ایئرپورٹ کے قریب آج سوا دو بجے کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی۔

ایئربس 320 میں 107 افراد سوار تھے۔ جن میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد شامل ہیں۔ ایئربس 320ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ سے کراچی کیلئے روانہ ہوئی۔ پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ کے دوران طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کیلئے بالکل تیار تھا۔ پائلٹ نے لینڈنگ کا سگنل بھی دے دیا تھا۔ لیکن طیارے کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا اور ماڈل کالونی کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔
طیارہ گرنے کی ابتدائی وجوہات تکنیکی خرابی بتائی جا رہی ہے کہ لینڈںگ کے دوران طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے تھے۔ طیارہ گرنے سے کئی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ جبکہ جس چھت پر طیارہ گرا ہے۔ اس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ طیارہ گرنے کے ساتھ ہی طیارے میں آگ لگ گئی۔ جس سے آسمان پر دھوئیں گے بادل بن گئے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے طیارہ گرنے کی تصدیق کردی۔
طیارہ گرنے کی اطلاع ملتے ہی ایئرپورٹ اور ماڈل کالونی کے متاثرہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ مزید برآں ترجمان پی آئی اے عبداللہ کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثے سے متعلق وہ کچھ دیرمیں تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔ عوام کو چاہیے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، طیارے کی عمر 10 سے 12 سال تھی، تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں