طیارے کا اگلا حصہ پہلے 4 منزلہ عمارت سے ٹکرایا، عینی شاہدین

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طیارے کا اگلا حصہ پہلے 4 منزلہ عمارت سے ٹکرایا، جس کے بعد طیارے میں آگ بھڑک اٹھی، اور دھماکا ہوا، طیارے کا جلتا ہوا ملبہ دوسرے گھروں اور گلیوں میں کھڑی گاڑیوں پر گرا تو ان میں بھی آگ لگ گئی۔ تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی پرواز8303 کے حادثے سے متعلق عینی شاہدین نے بتایا کہ سوا 2 بجے کے قریب ایک زور دار آواز آئی۔جس کے بعد دھماکا ہوا۔ طیارہ گرنے سے ایئرپورٹ کے قریبی 7سے 8 گھر شدید متاثر ہوئے ہیں۔ گھروں پر طیارہ گرنے سے وہاں کھڑی کچھ گاڑیوں میں بھی آگ لگی، جس کے بعد زور دار دھماکے ہوئے، ماڈل کالونی کا علاقہ ہے یہاں کی گلیاں کافی تنگ ہیں، متاثرہ گھروں کے افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، خواتین نے بتایا کہ ان کے بچے لاپتا ہیں، ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ گھروں کے افراد کی لسٹ تیار کرلی ہے، جس میں گھروں میں موجود تمام افراد کے نام شامل ہیں۔

پی آئی اے نے طیارے میں سوار مسافروں کے ناموں کی فہرست جاری کردی، 99 مسافروں میں 51 مرد مسافر، 31 خواتین اور 9 بچے شامل ہیں، بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود اور سینئرصحافی انصارنقوی کا نام بھی مسافروں میں شامل ہے۔ تفصیلات کے مطابق حادثے کا شکار طیارے میں سوار مسافروں کی فہرست میں میں یاسمین اکبانی، فروا علی، ارمغان علی، فوزیہ ارجمند، فتح الہٰی، رحیم زین، کاشف، شبیر احمد، رضوان احمد، بلال احمد، عابد زارا، فاطمة الزہرا، محمد طارق ، محمد وقاص، اقراء شاہد، خالد شیر دل و دیگر شامل ہیں۔اسی طرح کیپٹن سجاد گل طیارے کو اڑا رہے تھے، ان کے ساتھ آفیسر عثمان اعظم تھے۔ فرید احمد چودھری، عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان، ایئرہوسٹس مدیحہ ارم، آمنہ عرفان، عاصمہ شہزادی، عملے کے تمام لوگوں کا تعلق لاہور سے ہے۔ واضح رہے کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی۔ ایئربس 320 میں 107 افراد سوار تھے۔ جن میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد شامل ہیں۔ایئربس 320ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ سے کراچی کیلئے روانہ ہوئی۔

پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ کے دوران طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کیلئے بالکل تیار تھا۔ پائلٹ نے لینڈنگ کا سگنل بھی دے دیا تھا۔ لیکن طیارے کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا اور ماڈل کالونی کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔طیارہ گرنے کی ابتدائی وجوہات تکنیکی خرابی بتائی جا رہی ہے کہ لینڈںگ کے دوران طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے تھے۔

طیارہ گرنے سے کئی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ جبکہ جس چھت پر طیارہ گرا ہے۔ اس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ طیارہ گرنے کے ساتھ ہی طیارے میں آگ لگ گئی۔ جس سے آسمان پر دھوئیں گے بادل بن گئے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے طیارہ گرنے کی تصدیق کردی ہے۔طیارہ گرنے کی اطلاع ملتے ہی ایئرپورٹ اور ماڈل کالونی کے متاثرہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ جبکہ ہسپتالوں میں عملے کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں کیلئے جائے حادثہ پر پہنچ گئیں، جنہوں نے امدادی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ طیارے میں لگی آگ بجھانے کیلئے فائر بریگیڈ مصروف ہے۔ رینجرز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔تاکہ لوگوں کو طیارے کے ملبے کے قریب جانے سے روکا جا سکے۔ مزید برآں آئی ایس پی آرکے مطابق پاک فوج کی کوئیک ری ایکشن فورس اور رینجرز موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ سول انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ پاک فوج کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز کے ذریعے نقصانات کا جائزہ اور ریسکیو کارروائیاں کی جارہ ہیں۔ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی امدای کاموں کے لیے موقع پر پہنچ گئی ہیں۔مزید برآں ترجمان پی آئی اے عبداللہ کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثے سے متعلق وہ کچھ دیرمیں تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔ عوام کو چاہیے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، طیارے کی عمر 10 سے 12 سال تھی، تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں