پی آئی اے طیارہ حادثہ، 2 مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے

پی آئی اے طیارہ حادثہ، 2 مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے، بینک آف پنجاب کے ظفر مسعود اور ایک اور مسافر زبیر شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق بتایا جا رہا ہے کہ پی آئی اے طیارے حادثے کے دوران طیارے میں سوار 2 مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے ہیں۔ ان مسافروں میں ایک بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود ہیں اور ایک اور مسافر کا نام زبیر بتایا جا رہا ہے۔
دونوں مسافروں کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ واضح رہے کراچی ایئرپورٹ کے قریب آج سوا دو بجے کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی۔ ایئربس 320 میں 107 افراد سوار تھے۔ جن میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد شامل تھے۔

آخری اطلاعات تک حادثے میں جاں بحق ہونے والے 39 افراد کی لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ ایئربس 320ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ سے کراچی کیلئے روانہ ہوئی۔ پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ کے دوران طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کیلئے بالکل تیار تھا۔ پائلٹ نے لینڈنگ کا سگنل بھی دے دیا تھا۔ لیکن طیارے کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہوگیا اور ماڈل کالونی کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔
طیارہ گرنے کی ابتدائی وجوہات تکنیکی خرابی بتائی جا رہی ہے کہ لینڈںگ کے دوران طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے تھے۔ طیارہ گرنے سے کئی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ جبکہ جس چھت پر طیارہ گرا ہے۔ اس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ طیارہ گرنے کے ساتھ ہی طیارے میں آگ لگ گئی۔ جس سے آسمان پر دھوئیں گے بادل بن گئے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے طیارہ گرنے کی تصدیق کردی۔
طیارہ گرنے کی اطلاع ملتے ہی ایئرپورٹ اور ماڈل کالونی کے متاثرہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ مزید برآں ترجمان پی آئی اے عبداللہ کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثے سے متعلق وہ کچھ دیرمیں تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔ عوام کو چاہیے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، طیارے کی عمر 10 سے 12 سال تھی، تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں