ٹرین حادثے میں سکھ کمیونٹی کے ہلاک شدگان کی تعداد 22 ہوگئی

شیخوپورہ کی تحصیل فاروق آباد پھاٹک کے قریب سکھ خاندان کی فلائنگ کوچ کراچی سے لاہور آنے والی ٹرین شاہ حسین ایکسپریس کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں اب تک 22 افرادکے ہلاک اور 8 زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے‘وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں تصدیق کی ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد سکھ تھے.

بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں کا تعلق پشاور سے ہے اوروہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے تمام ہلاک شدگان کا لاشیں لاہور منتقل کی جارہی ہیں جہاں سے کل انہیں پشاور پہنچایا جائے گا‘ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مرنے والے اپنی قریبی عزیزکی تعزیت کے لیے ننکانہ صاحب آئے تھے اور واپسی پروہ گوردوارہ سچا سودا فاروق آباد ماتھا ٹیکنے جارہے تھے جب یہ المناک حادثہ پیش آیا.
پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھ کمیٹی متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام بھی حادثے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئے ہیں ‘ادھر پنجاب اسمبلی کے رکن سردار رمیش سنگھ اورڑا کی درخواست پر وزیراعلی پنجاب نے اپنا ہیلی کاپٹر لاشوں اور زحمیوں کی لاہور منتقلی کے لیے فراہم کردیا ہے‘پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق پردھان سردارگوپال سنگھ چاولہ نے بتایا ہے کہ مرنے والوں اور زحمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں.
ریسکیو 1122 کے ضلعی انچارج رانا اعجاز نے بتایا کہ لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرک ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں لاہور منتقل کیا جارہا ے جبکہ حادثے میں زخمی ہونے والے 8 میں سے 5 افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی انہوں نے بتایا کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے‘ حادثے کے بارے میں ڈی پی او غازی صلاح الدین نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ وقوعہ کے وقت پھاٹک بند تھا لیکن ڈرائیور نے جلد بازی کرتے ہوئے کچے راستے سے پھاٹک کراس کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں حادثہ رونما ہوا اور حادثے میں ڈرائیور بھی زندہ نہ بچ سکا.
انہوں نے بتایا کہ ڈرائیور پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے کچھ دیر رکا پھر 25-30 گز پیچھے گیا جہاں ٹریک زمین سے قدرے ہموار تھا اور وہاں سے گاڑی گزارنے کی کوشش کی جو ٹرین کی زد میں آگئے ڈی پی او نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد پاکستانی اور سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے جو 3 فلائنگ کوچزمیں سوار تھے جس میں سے 2 آگے گزر چکی تھیں. تیسری بدقسمت کوچ پیچھے رہ گئی‘ انہوں نے بتایا کہ کوسٹر میں 25 سے 26 مسافر سوار تھے جس میں سے 22 ہلاک ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں‘ یہ افراد پشاور سے کسی بزرگ کے انقال پر تعزیت کے لیے اپنے عزیز و اقارب کے پاس ننکانہ صاحب آئے ہوئے تھے اور آج واپس پشاور جارہے تھے.
دوسری جانب اس حوالے سے ترجمان ریلوے نے بتایا کہ کراچی سے لاہور آنے والی 43 اپ شاہ حسین ایکسپریس کا دوپہر ایک بجکر 30 منٹ پر ان مینڈ لیول کراسنگ پر اے سی کوسٹر سے تصادم ہوا جس میں 15 افراد ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ترجمان ریلوے نے مزید بتایا کہ ریلوے اور ضلعی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ کر ٹریک کی بحالی، زخمیوں اور جاں بحق افراد کو کوسٹر سے نکالنے میں مصروف ہیں.
ترجمان ریلوے نے مزید بتایا کہ تمام ڈویژنل افسران کو جائے حادثہ کی طرف روانہ کیا گیا ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حادثے کے بعد ریلوے نے فوری طور پر ڈی ای این کو معطل کردیا ہے جبکہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے. علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے شیخوپورہ میں ٹرین حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی کی ہدایت کی‘ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ میری دعائیں اور ہمدردیاں غمزدہ اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور متعلقہ حکام کو ان غمزدہ خاندانوں کی مکمل معاونت اور دیکھ بھال یقینی بنانے کے احکامات دیے جاچکے ہیں.
انہوں نے اعلان کیا کہ اس سانحے کے بعد اب ریلوے کے پورے آپریشنل سیفٹی ایس او پیز کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گادوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹرین حادثے میں قیمتوں جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس اور لواحقین سے تعزیت کی انہوں نے محکمہ صحت کے حکام کو زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی. قبل ازیں 27 مئی کو پتوکی میں ایک ریلوے کراسنگ پر ٹرین سے کار کی ٹکر میں 2 نئے شادی شدہ بھائی اور ان کی بیویاں ہلاک ہوگئے عینی شاہدین کے مطابق ریلوے حکام نے 2 ریلوے کراسنگ میں سے صرف ایک پھاٹک کھول رکھا تھا جہاں کراچی جانے والی خیبر میل نے کار کو کچل دیا اور رکنے سے قبل کار کو ایک کلومیٹر تک گھسیٹا.
اس سے قبل 28 فروری کو سندھ کے ضلع سکھر کے علاقے روہڑی کے قریب پاکستان ایکسپریس نے مسافر کوچ سے ٹکر ہوئی تھی جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے تھے‘حادثہ روہڑی کے قریب اچھیوں قبیوں کے مقام پر پیش آیا جہاں کراچی سے سرگودھا جانے والی ایک مسافر کوچ پھاٹک کھلا ہونے کے باعث کراچی سے راولپنڈی جانے والی پاکستان ایکسپریس کی زد میں آگئی.
حادثہ اتنا ہولناک تھا کہ مسافر کوچ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی جبکہ تصادم کے ساتھ ہی ٹرین، کوچ کو 150 سے 200 فٹ دور تک گھسیٹتے ہوئے لے گئی‘خیال گزشتہ چند سال کے دوران ریلوے حادثات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے تاہم سال 2019 پاکستان ریلویز اور اس کے مسافروں کے لیے بدترین ثابت ہوا اور پورے سال میں بڑی تعداد میں حادثات رونما ہوئے جن میں اکتوبر میں تیزگام ٹرین میں ہولناک آتشزدگی کا سانحہ بھی شامل ہے. ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا تھا کہ 2019 میں 100 سے زائد ٹرین سے متعلق حادثات ہوئے جن میں چند مہلک تھے، اس کے علاوہ سال کے پہلے 5 ماہ میں ہی راستے میں انجن ناکارہ ہونے کے 111 واقعات پیش آئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں