وفاقی حکومت نے چیئرمین ایف بی آر کو عہدے سے ہٹا دیا

وفاقی حکومت نے چیئرمین ایف بی آر کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، جاوید غنی کو چیئرمین ایف بی آر تعینات کردیا گیا ہے، ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنے میں ناکامی پر نوشین امجد کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے، ابھی تک تین چیئرمینوں کو ہٹایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے چیئرمین ایف بی آرنوشین امجد کو عہدے ہٹادیا گیاہے۔
ان کی جگہ جاوید غنی کو نیا چیئرمین تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ نوشین امجد کو اسی وجہ سے عہدے سے ہٹایا گیا ہے، جس کی وجہ سے شبر زیدی کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ موجودہ چیئرمین کے دور میں کورونا سے پہلے اور کورونا وباء کے بعد ذمہ داری کے ساتھ ٹیکس اکٹھا نہیں کیا جا رہا تھا۔ اسی طرح آئی ایم ایف اور اسٹیٹ بینک کی پالیسی کے مطابق 5000 ارب کے ریونیو کو ہر حال میں اکٹھا کیا جانا تھا، لیکن ٹیکس ہدف پورا نہیں کیا جاسکا، ٹیکس صرف 3900ارب اکٹھا کیا گیا ہے۔

اور ایک ہزار ارب کا شارٹ فال ہوا۔ کابینہ اجلاس میں موجودہ چیئرمین کو ہٹانے کی منظوری دی گئی ہے، ایف بی آر کے اندر افسران کا کہنا ہے کہ ابھی تک سرکاری طور پر احکامات نہیں ہوئے۔ نوشین امجد کو باربار کہا جاتا رہا کہ ایف بی آر افسران پر گرفت سخت کریں اوربجلی ، گیس اور تاجروں سے پیسے نکالیں۔واضح رہے نوشین امجد کو 17اپریل 2020ء کو بطور چیئرمین تعینات کیا گیا تھا۔
واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس ریونیو میں خسارے کی وجہ کورونا کو قرار دیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں جانتا ہوں یہ بہت مشکل بجٹ تھا، کورونا وباء سے قبل ٹیکس ہدف 5000 ارب کا تھا، حکومت نے4900 ارب کی وصولیاں کیں، جو پانچ سالوں سے17فیصد زیادہ تھیں، لیکن کورونا کی وجہ 1000 ارب خسارہ ہوا، اور صرف 3900 ارب اکٹھا کیا جاسکا، سروسزسیکٹر، فیکٹریاں، کاروباربند ہونے سے معیشت کو بڑا جھٹکا لگا، معیشت کو کھڑا کرنے کیلئے ہمارے اوپر بڑا چیلنج رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں