منہ میں خراشیں بھی کورونا کی علامت ہوسکتی ہے، نئی تحقیق

کورونا وائرس کی نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ منہ میں خراشیں بھی کورونا کی علامت ہوسکتی ہے، کورونا وائرس منہ کی اندرونی کھال پر بھی اثرانداز ہوتا ہے، جس سے متاثرہ مریض کے منہ میں خراشیں اور چھالے بننے سے کھانا پینا مشکل ہوجاتا ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق اسپین میں ریسرچ جرنل ’’جاما ڈرمیٹالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں کورونا وائرس کے اثرات اور علامات سے متعلق ایک آن لائن تحقیق شائع ہوئی ہے۔
جس میں معلوم ہوا ہے کہ منہ میں خراشیں بھی کورونا کی علامت ہوسکتی ہے۔ کیونکہ کچھ وائرس انسانی کے منہ کے اندر والے حصے کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی طرح کورونا بھی جب بعض افراد کے منہ کی اندرونی کھال پر اثر انداز ہوتا ہے۔

تو اس شخص کے منہ میں خراش ہوتی ہے اور منہ میں چھالے بھی نمودار ہوجاتے ہیں، جس کے باعث متاثرہ شخص کا کھانا پینا دشوار ہوجاتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ نئی تحقیق21 مریضوں پر کی گئی ہے۔ ان مریضوں کے منہ کی اندرونی کھال کو بھی کورونا نے متاثر کیا۔ جس کے سبب ان مریضوں کے منہ میں چھالے بن گئے، اور خراش بھی ہونے لگی۔ اس سے قبل بھی کورونا وائرس کی علامات سے متعلق مختلف تحقیقات سامنے آچکی ہیں۔ جیسا کہ چہرے کی جلد پر چکن پاکس اور چیچک جیسے باریک باریک دانے بن جانا بھی کورونا کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
لیکن کورونا کی اہم علامات میں مریض کو بخار ہونا، خشک کھانسی کا آنا شامل ہے۔ دوسری جانب برطانیہ نے کورونا وائرس سے بچائو کے لیے تیار کردہ ممکنہ ویکسینز کی 90 ملین خوراکوں کے حصول کے لیے 3 کمپنیوں بائیو این ٹیک، فائزراور والنیوا کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ برطانیہ اب اس معاہدے کے بعد کورونا وائرس سے بچائو کے لیے مقامی اور عالمی سطح پر تیار کی جانے والی 3 مختلف اقسام کی ویکسینز تک رسائی حاصل کرلے گا اور اس کے ساتھ ساتھ رضاکاروں کے لیے ویکسین بارے مطالعہ کے لیے ایک ویب سائٹ بھی متعارف کرائی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں