کورونا صرف پھیپھڑوں کی بیماری نہیں، خون جم جانے کا زیادہ خطرہ دیکھا گیا

کورونا وائرس صرف پھیپھڑوں کی بیماری نہیں بلکہ خون جم جانے کا زیادہ خطرہ دیکھا گیا، کورونا خون کے گردشی نظام میں نقص بھی پیدا کرتا ہے،کورونا مریضوں میں قلبی امراض اور اعضاء کی خرابی سامنے آئی ہے، خون جمنے سے گہری وریدی تھرمبوسس، ہارٹ اٹیک یا فالج کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ برطانوی ہارٹ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس سانس اور پھیپھڑوں کی بیماری ہے لیکن نیا کورونا وائرس کووڈ19 بہت زیادہ خطرناک ہے۔
یہ صرف پھیپھڑوں کی بیماری نہیں بلکہ خون کے گردشی نظام میں نقص بھی پیدا کرتا ہے۔ کورونا انفیکشن سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں میں خون جمنا بھی شامل ہے۔ جس سے معلوم ہوا ہے کہ یہ بیماری صرف پھیھڑوں کی نہیں ہے۔

کورونا وائرس سے خون کے جمنے کا خطرہ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ خون جمنے سے بعض کورونا مریضوں میں قلبی امراض اور اعضاء کی خرابی سامنے آئی ہے۔

خون جمنے کی خرابی کا عمل ذیابیطس ، موٹاپے یا ہائی بلڈ پریشر جیسے مریضوں میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ خون جمنے سے گہری وریدی تھرمبوسس ، ہارٹ اٹیک یا فالج کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ کچھ رپورٹس موجودہ کورونا وائرس کے اثرات کو اعصابی مسائل ، پیروں پر سرخ دردناک سوجن سے مربوط کرتی ہیں۔ اسی طرح نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں ایک رپورٹ شائع ہوئی جس کے مصنف جوہانا فیفی نے کووڈ19 میں بلڈ کلاٹنگ کو ایک بہت ہی نمایاں عنصر قرار دیا ہے۔
پینسلوینیا کے تھامس جیفرسن یونیورسٹی اینڈ ہسپتال کے فزیشن پاسکل جبور نے کہا کہ موجودہ وکورونا وائرس سے خون جمنے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ پلیٹلیٹس خون جمنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ بعض مریضوں میں دل کے دورے ، فالج اور دیگر شدید پیچیدگیاں پیدا کرنے والے پلیٹلیٹس میں ردوبدل دیکھا گیا۔ اس طرح کچھ محقیقن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ خون جمنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کورونا وائرس کا انفیکشن ہارمونز کے عدم توازن کا سبب بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں