امریکا نے کووڈ 19 کی ویکسین کی قیمت کا عالمی معیار طے کرلیا

امریکا نے کووڈ 19 کی ویکسین کی قیمت کا معیار طے کرلیا ہے، فی امریکی شہری کو کورونا ویکسین 40 ڈالر میں پڑے گی، امریکا نے فائزر اورجرمن بائیوٹک 2 دوا ساز کمپنیوں سے2 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا ہے، معاہدے سے پہلے مرحلے میں 5 کروڑ امریکیوں کو ویکسین کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت نے امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمن بائیوٹک کمپنی کے ساتھ 2 ارب ڈالرز کا معاہدہ کرلیا ہے۔
دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمن بائیوٹک کمپنی امریکی حکومت نے رقم تب تک وصول نہیں کریں گے جب تک ان کی تیار کردہ ویکسین وسیع سطح پر کلینکل ٹرائلز میں محفوظ اور مؤثر ثابت نہ ہوں۔ ویکسین سے متعلق رواں ماہ ٹرائل شروع ہوجائیں گے۔

سینئر اقتصادی اور صنعتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا نے کورونا وائرس ویکسین کی قیمت کیلئے عالمی معیار کا تعین کر لیا ہے۔

لیکن اس کا دباؤ دیگر مینوفیکچررز پر بھی پڑے گا کہ وہ بھی اپنی مینوفیکچرنگ کی اسی طرح کی قیمت طے کریں۔ تاہم اس معاہدے کا اطلاق کسی بھی منظور ہونے والی ویکسین پر ہوگا۔ ویکسین 5 کروڑ امریکیوں کو ویکسین کی سہولت فراہم کرے گا۔ قیمت کے عالمی معیار کے تحت فی امریکی شہری کو ویکسین 40 ڈالر میں پڑے گی۔ یہ اتنی قیمت ہی ہوگی جتنی قیمت میں وہ سالانہ فلو ویکسین خریدتے ہیں۔
امریکا نے اپنے معاہدے میں ویکسین بنانے والی کمپنیوں کے منافعے یا فائدے کا بھی خیال رکھا ہے۔ کیونکہ یہ کمپنیاں مہلک وائرس سے لوگوں کو بچانے کی ویکسین تیار کررہی ہیں۔ یہ ایسا مہلک وائرس ہے جس سے اب تک 6 لاکھ 37 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے امریکا اور جرمن کمپنیوں نے مشترکہ کورونا ویکسین کے حوصلہ افزاء نتائج کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکا اور جرمنی کی دو بڑی ادویہ ساز کمپنیوں جن میں جرمن بائیوٹیک فرم BioNTech اور امریکی دوا ساز کمپنی فائزر (Pfizer ) کی تیار کردہ کورونا ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ کمپنیوں کی جانب سے آج سوموار کو تجرباتی کووڈ19 ویکسین کے اہم ڈیٹا کی خبر دی ہے کہ ویکسین کا مریضوں پر استعمال کیا گیا تو کورونا وائرس کیخلاف اعلیٰ سطح کا ٹی سیل رسپانس پیدا کیا۔ ویکسین محفوظ ہے اور مریضوں میں مدافعتی رد عمل پیدا کر رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ویکسین کی جانچ 60 صحتمند رضاکاروں پر کی گئی، ویکسین کے 2 عدد ڈوز سے وائرس کو ختم کرنے والی اینٹی باڈیز تیزی کے ساتھ پیدا ہوگئیں۔ ویکسین کا یہ ٹرائل جرمنی میں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں