انڈیپینڈنٹ ایڈجیوڈیکٹرنے عمر اکمل کی اپیل پرکیس کا فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) فقیر محمد کھوکھرنے بطور انڈیپینڈنٹ ایڈجیوڈیکٹرعمر اکمل کی اپیل پر کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔انڈیپینڈنٹ ایڈجیوڈیکٹرنے 29 جولائی 2020 کو جاری کیے گئے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ اپنے انٹرویو اور2 مختلف اوقات میں 2 مختلف افراد کی جانب سے فکسنگ سے متعلق رابطوں کے حوالے سے شوکاز نوٹس کے جواب میں اپیل کنندہ کی خوداعترافی کے بعد کسی شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ ان کے خلاف الزامات میں صداقت ہے۔
اپیل کنندہ کا مقف متضاد ہے اور اس کی کوئی ساکھ نہیں ۔ اپیل کنندہ کے خلاف مقدمہ درست ثابت ہوتا ہے۔چیئرمین ڈسپلنری پینل کا اپیل کنندہ کو دونوں الزامات میں قصور وار پانے کا واضح جواز موجود ہے۔

تاہم انڈیپینڈنٹ ایڈجیوڈیکٹرنے ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے عمر اکمل کی پابندی کی مدت میں کمی کرتے ہوئے سزا کو ایک سال اور چھ ماہ کردیا ہے۔

فیصلے کے مطابق سزا کا اطلاق عمر اکمل کی عبوری معطلی کے روز سے ہوگا جوکہ 20فروری 2020 ہے۔27 اپریل کو جسٹس (ر) فضلِ میراں چوہان نے بطور چیئرمین ڈسپلنری پینل دو مختلف مواقع پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 2.4.4 کی خلاف ورزی کرنے پر عمر اکمل پر تین سال کی پابندی عائدکی تھی۔پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 7.5.4 کے تحت انڈیپینڈنٹ ایڈجوڈیکٹرکے فیصلے پر اپیل صرف کھیلوں کی ثالثی عدالت میں ہی کی جاسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں