اسلام آباد ہائیکورٹ: معاونین خصوصی کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد

اسلا م آباد ہائیکورٹ نے معاونین خصوصی کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد کردی، دوہری شہریت پر معاونین خصوصی کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم عوام کو جوابدہ ہیں وو اکیلے ریاست کا نظام نہیں چلا سکتے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آج جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من الله نے وزیراعظم کے دوہری شہریت والے معاونین خصوصی کو عہدوں سے ہٹانے کی درخواست کی سماعت کی۔
جس کا عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے معاونین خصوصی کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے کہا کہ دوہری شہریت پر وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعظم عوام کو جواب دہ ہیں وزیراعظم اکیلے ریاست کا نظام نہیں چلا سکتے۔
سماعت کے دوران جسٹس اطہر من الله نے ریمارکس دیئے کہ بتائیں آئین میں کہاں لکھا ہے کہ وزیراعظم کے معاونین دوہری شہریت نہیں رکھ سکتے۔

وزیراعظم کو جب عوام منتخب کرتے ہیں تو ان پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں۔ وہ اگر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے کسی کی مدد لے تو اس میں کیا حرج ہے۔ اگر انہیں اتنا اختیار بھی نہ دیں کہ وہ کسی کو معاون رکھے تو کیسے نظام چلے گا۔ درخواست گزار وکیل اکرم چوہدری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 93 کے تحت صرف پانچ مشیر مقرر کئے جا سکتے ہیں۔
جسٹس اطہر من الله نے کہا کہ آرٹیکل 93 مشیروں سے متعلق ہے ، معاونین خصوصی سے متعلق نہیں ہے۔ آئین میں یہ دکھائیں جس جگہ لکھا ہے کہ معاونین دہری شہریت نہیں رکھ سکتے۔درخواست گزار نے کہا کہ آئین میں ایسا کچھ نہیں لکھا لیکن رولز آف بزنس میں یہ پابندی موجود ہے، رول پندرہ میں اس قسم کی پابندی موجود ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رولز 15 تو 2010 میں حذف کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ کابینہ کے 19 غیر منتخب ارکان میں سے چار معاونین خصوصی دہری شہریت رکھتے ہیں جنہیں برخاست کرنے کا حکم دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں