کسی شہری کو 6 مہینے لاپتا کرنے کا قانون نہیں بننے دیں گے، بلاول بھٹو

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ کسی شہری کو 6 مہینے لاپتا ہونے قانون نہیں بننے دیں گے، فیٹف کی آڑمیں آمرانہ طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، حکومت جھوٹ کے ساتھ فیٹف کو نیب کے ساتھ نتھی کررہی ہے، جسٹس مقبول باقر کے فیصلے بعد نیب اور جمہوریت ساتھ نہیں چل سکتی۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایوان میں ایک بل جو غیرمتنازع ہوسکتا تھا اس کو بھی متنازع بنادیا ہے۔
وہ ایشوز جن کا حل نکل سکتا ہے، ان کو بھی جان بوجھ کر متنازع بنایا جارہا ہے، اسپیکر کا جوکردار ہے ، وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے۔اسپیکر سے متعلق ہمارا مئوقف درست ہے۔ آج جو بل منظور کیا گیا ہے۔ حکومت اس سارے عمل میں کنفیوژن پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے اس حکومت سے آنے پہلے بھی دہشتگردی اور انتہاپسندی کا مقابلہ کیا، تاکہ پاکستان کے عوام اور گرین پاسپورٹ کی عزت کروانا چاہتے ہیں، ساتھ ساتھ ہم جمہوریت اور انسانی حقوق کے حق میں بھی ہیں۔

لیکن ایسی قانون سازی نہیں ہونے دیں گے جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے خلاف ہوگی۔حکومت نے فیٹف کے نام پر قانون سازی کے ذریعے آمرانہ طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کے کسی شہری کو 6 ماہ کیلئے کسی بیوروکریٹ کے کہنے پر لاپتا شہری بنا سکتے ہیں تو ہم کبھی اجازت نہیں دے سکتے۔فیٹف کا ایسا کوئی مطالبہ نہیں، ہم تمام بلز کو دیکھ رہے ہیں، فیٹف سے متعلق بل پاکستان کا کام ہے، جو پاکستان کا کام ہے، وہ پیپلزپارٹی خود کرے گی۔
حکومت اگر سمجھتی ہے کہ وہ چور دروازے سے اپنے بیوروکریٹس ، وزراء کو آمرانہ طاقت دے سکتے ہیں۔اس حوالے سے عوام کو آگاہ کرتے رہیں گے۔نیب آرڈیننس پی ٹی آئی کا اپنا آرڈیننس ہے، اس کو منظور کروانے کی ہم سے بات کررہے ہیں، نیب آرڈیننس ہمارا نہیں ہے، یہ دومیٹنگز کا نتیجہ ہے، جو بزنس کمیونٹی نے جنرل باجوہ اور بعد میں وزیراعظم سے کی تھی۔ہر تاجر نے کہا کہ جمہوریت اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
جسٹس مقبول باقر کے فیصلے بعد نیب اور جمہوریت ساتھ نہیں چل سکتی۔آٹا، چینی ، مالم جبہ، ین آر او، این آر او کرکے اصل این آر او کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔پارلیمنٹ میں اگر کسی کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی، تو وہ کلبھوشن کا بل ہے، آئی سی جے کی بات ہے تو عمران خان تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کررہا ہے کہ کلبھوشن کو وکیل دیا جائے۔کلبھوشن کو قانون کے مطابق حق ملنا چاہیے لیکن چور دروازے سے کچھ نہیں ہونے دیں گے۔
کٹھ پتلی سلیکٹڈ وزیر ، وزیراعظم اسٹے آرڈر کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جائیداد کے بارے میں پوچھا جاسکتا ہے توشہزاد اکبر نے دول سال تک خود اپنی غیرملکی جائیداد ڈکلیئر نہیں کی ، اب جاکر اثاثے ڈکلیئر کیے گئے ہیں۔دوسال بعد اثاثے ظاہر کرنے کا جواب دینا پڑے گا۔عمران خان اپنے مشیروں ساتھیوں کی کرپشن کا تحفظ کررہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں