میرے خیال میں نیب میں پیش نہ ہونا، قانون کی زیادہ پاسداری ہے، مریم نواز

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نیب میں پیش نہ ہونا، قانون کی زیادہ پاسداری ہے، نیب خود مطلوب ادارہ ہے، نیب کو جواب دینا ہے، ٹیکس کے پیسے سے سیاسی جوڑ توڑ اور حکومت کی مدد کیوں کی،نیب کے ہتھکنڈوں پر مہر سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے ججز صاحبان اور ہیومن رائٹس نے بھی لگا دی ہے ، گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو میں ہیڈ انجری کے باعث ہسپتال میں ہوتی۔
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں شاہد خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ، پرویز رشید، مریم اورنگزیب اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج جس ریاستی حکومتی خوف، جبر اور دہشتگردی کا مظاہرہ کرکے آرہی ہوں، وہ جعلی سلیکٹڈ حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
آنسوگیس، پتھراؤ سے ہمارے کارکن زخمی ہوئے، ان کو چوٹیں آئیں، میں مذمت کرتی ہوں، میں زخمی اور میرے ساتھ کھڑے ہونے والے کارکنان کو سلام پیش کرتی ہوں۔

میں نے پہلی بار مظاہرہ دیکھا کہ ایک طرف نیب گردی ہے، پتھر آرہے ہیں، لیکن کارکن ڈٹ کرکھڑے رہے، جن کارکنا ن کو گرفتار کیا گیا ہے، ان کی معاونت کی جائے گی، میں اپنے سکیورٹی گارڈز کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں، جب میری گاڑی نیب کے قریب پہنچی تو مجھے پتا نہیں تھا کہ وہاں عوام کا ایک سمندر ہے، لیکن وہاں اچانک آنسو گیس کی شیلنگ شروع ہوگئی۔
وہاں میری گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا۔ بلٹ پروف گاڑی تھی، اس کے باوجود اس کی ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی ہے۔وہاں پر کارکن پھر میری گاڑی کے آکر کھڑے ہوگئے۔ میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نیب کا نوٹس پرسوں موصول ہوا۔میڈیا کو رنگ دیا گیا کہ شاید میں نے کسی زمین پر قبضہ کیا ہے ، انہوں نے نیب کا کال آف نوٹس دکھایا اور کہا کہ اس نوٹس میں مجھ پر ایک الزام بھی نہیں لگایا گیا۔
میں کہنے میں حق بجانب ہوں کہ مجھے بلانے کے پیچھے مجھے نقصان پہنچانا مقصود تھا۔ پرویز رشید نے کہا کہ شکر کرو، گاڑی بلٹ پروف تھی، اگر دوسری گاڑی ہوتی تو پتھر میرے سر پر لگتے، اور پولیس کی یونیفارم میں جو لوگ تھے پتا نہیں وہ پولیس والے تھے یا نہیں۔میں نے اسی وقت ویڈیوز بنائیں اور ٹویٹ کردیے، اگر گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو پتھر میرے سر میں لگتے اور میری ہیڈ انجری ہوسکتی تھی۔
پھر مجھے کہا گیا کہ مریم نواز کو واپس بھیج دیں، لیکن رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آپ لکھ کر دیں، پھر کہیں گے ہم حاضر نہیں ہوئے،نوازشریف، حمزہ شہباز، شاہد خاقان، رانا ثناء اللہ ، اور باقی لیڈران کو بھی پتا ہے۔نیب کے ہتھکنڈوں پر مہر سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے ججز صاحبان اور ہیومن رائٹس نے لگا دی ہے۔کہ نیب ہتھکنڈے حکومت کو برقرار رکھنے اور سیاسی انتقام کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔
میرے خیال میں نیب کے سامنے پیش نہ ہونا، قانون کی زیادہ پاسداری ہے، نیب مطلوب ادارہ ہے، نیب کو جواب دینا ہے، عوام کے ٹیکس کے پیسے کو سیاسی جوڑ توڑ اور حکومت کی کیوں مدد کی۔ ابھی ایک وزیر کہہ رہے تھے کہ عمران خان کو کہوں گا کہ میر شکیل الرحمان کو چھوڑ دیں۔ کیا اس کو عمران خان نے گرفتار کیا ہے؟ یہ ہے نیب؟ انہوں نے کہا کہ نیب کا بڑا گھناؤنا کردار ہے۔
مجھ پر یہ پہلا یا دوسرا نہیں بلکہ تیسرا مقدمہ ہے، اگر پہلا مقدمہ مضبوط تھا، دوسرا کیوں بنایا؟ اب تیسرے مقدمے کا انجام بھی پہلے جیسے مقدمات کا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی میں نیب کی مہمان تھی، ان کے پاس مجھے رکھنے کی جگہ بھی نہیں تھی۔ مجھ سے تحقیقات کی گئیں کہ مسلم لیگ ن بڑی جماعت ہے، آپ کی وہاں کیا اختیار ات ہیں، آپ کون سی کتابیں پڑتی ہیں، ملکی سیاست اور دوسری چیزوں پر گفتگو کی جاتی رہی لیکن مقدمے بارے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔
میرے جلسوں اور الیکشن کے خوف سے مجھے گرفتار کیا گیا ہے۔ 8تاریخ کو میرا کشمیر میں جلسہ تھا، میں 6تاریخ کو جب میاں نوازشریف سے ملنے گئی تو جیلر نے کہا کہ آپ کو شہباز شریف بلا رہے ہیں، وہاں نیب والے بھی تھے، نیب والوں نے کہاکہ آپ کو گرفتارکرنا چاہتے ہیں، ابھی میں نوازشریف کے پاس پہنچی ہی تھی ان کو بتایا کہ مجھے نیب گرفتار کرنا چاہتی ہے۔
میاں صاحب نے کہا کیوں؟ لیکن میرے بچوں کے سامنے مجھے گرفتار کیا گیا۔ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ آج مجھے اچانک کیوں گرفتار کرنے کا خیال آیا؟ میرا ذاتی خیال ہے کہ ان کو خوف ہے جو ان کے اندرونی سروے ہورہے ہیں، وہ خبر ہم تک پہنچتی ہے، ان سروے میں نوازشریف اور ن لیگ کا گراف بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ان کے سروے کے مطابق مسلم لیگ ن پنجاب میں کلین سویپ کررہی ہے۔
عمران خان اس لیے اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں، کہ پہلے آنے اور اب جانے کا خوف ہے، کیونکہ انہوں نے اتنے ظلم کیے کہ اب ان کو اپنے انجام سے خوف آتا ہے۔پاناما ، اقامہ، باقی چیزیں بھی ختم ہوگئیں۔ مسلم لیگ ن نے بہت سہہ لیا ہے، آپ کا کیا ہوگا جب آپ کی 6مہینے کی مہلت ختم ہوگی۔ آپ نے توخود اپنی زبان سے کہا ہے کہ چھ مہینے ملے ہیں پھر معاملات کہیں او رچلے جائیں گے۔
آپ نے فرمایا کہ میں نے کشتیاں جلادی ہیں، اس کا مطلب یہ ہے اب آپ کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔سفارتی محاذ میں بری طرح ناکام ہوئے، 72سالوں میں کسی ڈکٹیٹر کے دور میں بھی کبھی کشمیر پر بھارت کو جرات ہوئی، یہ سیاہ دھبہ بھی آپ پر لگا ہے، آپ کے دور حکومت میں کشمیر بھارت کی جھولی میں جاگرا، آپ کشمیریوں کو کیا کہیں گے میں آپ کا مقدمہ نہیں لڑسکا ، یہ وہی مودی ہے جو آپ کا فون نہیں سنتا لیکن وہ چل کر پاکستان آیا تھا۔
کیونکہ نوازشریف ایک الیکٹڈ اور تجربہ کار سیاست دان تھا، وہ ملک کے مفاد کو جانتا ہے۔آپ ایک مسلط شدہ وزیراعظم ہیں۔ آپ نے خفت مٹانے اور شرمندگی کو چھپانے کیلئے میڈیا کو خاموش کروایا۔نقشے پر لکیریں کھینچنے ،دومنٹ کی خاموشی، ایک شاہراہ کا نام تبدیل کرنے سے کشمیر نہیں ملتا۔ایٹمی دھماکے کرنے کی بجائے میاں صاحب دومنٹ کی خاموشی اختیار کرلیتے، بنی گالہ کا نام تبدیل کرکے چاغی رکھ لیتے۔
فارن پالیسی ، عقل اور سمجھ کا حال دیکھ لیں، بچگانہ اور غیرذمہ درانہ بیانات دے کر سعودی عرب کو ناراض کردیا، پھر اوآئی سی کیخلاف بیانات دے کر دوست ممالک کو ناراض کردیا، ملک کو ہر طرح آگ میں جھونکا گیا۔انہوں نے کہا کہ میری پارٹی کا ایک ہی بیانیہ ہے اور وہ ہے ووٹ کو عزت دو۔میاں صاحب کی ہدایات ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ تعاون کیا جائے اورتما م پوزیشن کے فیصلے اے پی سی میں کیے جائیں۔
مولانا کے اگر تحفظات ہیں تو ن لیگ دور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف خاموش نہیں، بلکہ میاں صاحب نے اپنے حصے کے سارے کام کردیے، وہ قربانیاں دیں، جو کسی لیڈ ر نے نہیں دیں، بیوی کو مرگ بستر پر چھوڑ کر واپس آئے، اپنے کارکنان اور پارٹی کو ہر جگہ پر پروٹیکٹ کیا۔میاں صاحب نے تمام ظلم اپنے سینے پر لیے ہیں۔نوازشریف نے جو بیانیہ دینا تھا دیا، کاروبار ، پارٹی کو جو نقصان پہنچانا تھا ، ہر طرح کی میاں صاحب نے قیمت ادا کی ہے،وہ اپنے تمام کام کرکے گئے ہیں۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ وہ کیوں خاموش ہیں؟ان صحت جیسے ہی بہتر ہوگی، وہ واپس آئیں گے اور اپنے کام کو جہاں چھوڑا تھا، وہاں سے دوبارہ اوپر اٹھائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں