نیوزی لینڈ میں 102 روز بعد کورونا کیس کی تصدیق

نیوزی لینڈ میں 102 روز بعد کورونا کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آج آکلیڈ میں 4 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔چاروں مصدقہ کیسز ایک ہی خاندان میں سامنے آئے۔جن میں سے ایک کی عمر 50 سال سے زائد ہے۔متاثرہ افراد نے بین الاقوامی سفرنہیں کیا تھا۔اہلخانہ کا ٹیسٹ کر لیا گیا ہے جب کہ کانٹیکٹ ٹریسنگ جاری ہے۔
مقامی سطح پر کورونا وائرس کی منتقلی کے بعد نیوزی لینڈ کے سب سے بڑی شہیر آک لینڈ میں دوبارہ لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ ہم اس چیز کے لیے تیار تھے،اور احتیاط میں اضافہ کیا کیونکہ ہمیں وائرس کے ذرائع معلوم نہیں۔102 دنوں میں یہ محسوس کرنا آسان تھا کہ نیوزی لینڈ مشکل وقت سے باہر آ گیا ہے۔
کوئی ملک وائر س کی دوسری لہر کے بغیر انتا آگے نہیں گیا۔

صرف ہم ہی تھے جو یہاں تک پہنچے اس لیے منصوبہ بندی کرنی تھی۔علاوہ ازیں نیوزی لینڈ میں دوبارہ سماجی دوری کا اطلاق ہو گا۔انہوں نے لوگوں پر سپر مارکیٹس کا رخ نہ کرنے پر بھی زور دیا۔خیال رہے کہ نیوزی لینڈ میں لاک ڈاؤن کے خاتمے کو 100 روز مکمل ہو گئے ہیں۔گزشتہ سو دنوں میں کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تاہم حکام نے متنبہ کیا تھا کہ وائرس کے خلاف اب بھی چوکنا رہنا ہوگا۔
حکام نے کہا ہے کہ ویت نام اور آسٹریلیا میں کورونا وائرس نہیں تھا مگر وبا نے بڑی تیزی سے پھیلنا شروع کر دیا۔ نیوزی لینڈ نے بڑی کامیابی سے وبا پر قابو پالیا ہے۔نیوزی لینڈ میں ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر اشلے بلوم فیلڈ میں کہا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے زائد کے عرصے میں کوئی کیس سامنے نہ آنا بڑی کامیابی ہے۔وزارت صحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملک میں ایکٹو کی تعداد 21 اور مجموعی کیسز 1,219متاثرہ ہیں لیکن ان میں سے کوئی مریض ایسا نہیں ہے جسے ہسپتال کی خدمات درکار ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں