قومی ٹیم کو بابراعظم جیسے مزید بلے باز درکار ہیں: ظہیر عباس

قومی ٹیم کی انگلینڈ میں ناکامی پر ظہیرعباس بھی مایوس ہیں جب کہ ایشین بریڈ مین کا کہنا ہے کہ کارکردگی میں تسلسل نہیں۔ ایک انٹرویو میں 73 سالہ سابق کپتان ظہیر عباس نے کہا کہ مانچسٹر ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 100 سے زائد رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد پاکستان کو میچ جیتنا چاہیے تھا، شکست پر سخت مجھے مایوسی ہوئی،میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا مگر ٹیم نے غلطیاں کیں اور ان کا خمیازہ ناکامی کی صورت میں بھگت لیا، کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان بڑی ٹیموں سے پیچھے نظر آتا ہے، ہم سب ایسی ٹیم کے طور پر پہچان نہیں چاہتے جو صرف کمزور حریفوں کے خلاف اچھی کارکردگی دکھا سکے۔
ایشین بریڈ مین نے کہا کہ بابر اعظم نے سیریز میں اچھی کارکردگی دکھائی اور پْراعتماد نظر آئے لیکن بیٹنگ کا تمام تر بوجھ کسی ایک بیٹسمین کے کندھوں پر نہیں ڈالا جا سکتا، امید ہے کہ پاکستان بابر جیسے مزید بیٹسمین تلاش کرنے میں کامیاب ہوگا۔

ایک سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ اظہرعلی کو کپتان برقرار رکھنا تو بورڈ کا فیصلہ ہے لیکن اتنی زیادہ کرکٹ کھیلنے کے بعد ان کو اتنا میچور ہوجانا چاہیے تھا کہ رنز بنانے کی اہمیت کو سمجھ سکیں، انھیں بطور کپتان ذمہ داری کا بوجھ اٹھا کر دوسروں کیلیے مثال قائم کرنا چاہیے۔

ظہیر عباس نے کہا کہ اسد شفیق کی تکنیک اچھی ہے،وہ اس میں معمولی بہتری لا کر کامیاب ہو سکتے ہیں، آف سٹمپ سے باہر جاتی گیندیں ان کی کمزوری ہے، اگر وہ تکنیک میں معمولی تبدیلی کرتے ہوئے اپنے سینے کے بجائے کندھا بولر کی طرف رکھیں تو نمایاں فرق سامنے آئے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں