ہمیں جاگنا ہو گا

چارلی ہیبڈو فرانس کا ایک ہفت روزہ میگزین ہے‘ یہ میگزین 1970ء میں شروع ہوا‘1981ء میں بند ہوا پھر 1991ء میں دوبارہ لانچ ہوا اور انتظامیہ نے اسے فروری2015ء میں ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ مالکان شرارتی ذہنیت کے مالک ہیں‘یہ میگزین کو مشہور کرنے کے لیے نبی اکرمؐ کے گستاخانہ خاکے شائع کرتے رہتے تھے‘ مسلمانوں نے اس گستاخی پر بار بار احتجاج کیا لیکن یہ لوگ باز آئے اور نہ حکومت نے نوٹس لیا۔

انتظامیہ نے میگزین بند کرنے سے پہلے جنوری 2015ء میں نبی اکرمؐ کے مزید گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا اعلان کر دیا اور یہ پورے عالم اسلام کے لیے ناقابل برداشت تھا‘ ہم مسلمان دنیا کے ہر ایشو پر کمپرومائز کر جاتے ہیں لیکن ہم نبی اکرمؐ

اور حرمت اہل بیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے‘ محبت رسولؐ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ہم اس پر اپنی ہر چیز قربان کرجاتے ہیں چناں چہ چارلی ہیبڈو کی اس رکیک خواہش پر پورے عالم اسلام سے شدید ردعمل سامنے آیا‘ 7 جنوری 2015ء کو میگزین کے دفتر پر حملہ بھی ہو گیا جس میں ایڈیٹر سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے‘ یہ حملہ دو عربی بھائیوں سعید کوشی اور شریف کوشی نے کیا تھا‘ حملے میں خاکے بنانے والے تین کارٹونسٹ بھی ہلاک ہوگئے‘ حملے کی ذمہ داری بعدازاں القاعدہ نے قبول کر لی‘حملے کے بعد میگزین نے اپنا دفتر تبدیل کر لیا‘ نیا دفتر خفیہ تھا‘ کسی کو اس کی لوکیشن کے بارے میں علم نہیں جبکہ پرانی عمارت10رونکولس ایپرٹمیں ایک ٹیلی ویژن پروڈکشن کمپنی پریمیئرز لائنزٹی وی پروڈکشن ایجنسی نے اپنا دفتر کھول لیا یوں یہ مسئلہ ختم ہو گیا اور چارلی ہیبڈو پس منظر میں چلا گیا‘ ملازمین بھی نوکریاں چھوڑ گئے اور ریونیو بھی مزید نیچے آ گیا‘ 25ستمبر کو2015ء کے حملوں کے 14 معاونین کے خلاف مقدمے کا آغاز ہو رہا تھا‘ میگزین نے اس دن کو ”تاریخی“ بنانے کے لیے ایک بار پھر گستاخانہ خاکے شائع کر دیے۔
میگزین کی اشاعت نہ ہونے کے برابر تھی لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے یہ خبر وائرل ہو گئی اور مسلمان ایک بار پھر غصے سے کھول اٹھے‘ ان مسلمانوں میں منڈی بہاؤالدین کے گاؤں کوٹلی قاضی کا ایک نوجوان ظہیرحسن محمود بھی شامل تھا‘ ظہیر حسن کی عمر محض 25 سال ہے‘ والدین کسان ہیں اور یہ تین سال قبل غیرقانونی طریقے سے پیرس پہنچا تھا اور چھ سات پاکستانیوں کے ساتھ کمرہ شیئر کرتا تھا‘ چارلی ہیبڈو کے خاکوں نے ظہیر حسن محمود کے دماغ پر برا اثر چھوڑا‘ یہ جذباتی ہو گیا‘ اس نے گوشت کاٹنے کا ٹوکا لیا‘ ویڈیو بنائی اور ٹوکا لے کر چارلی ہیبڈو کے پرانے دفتر چلا گیا۔

یہ ان پڑھ ہے لہٰذا یہ اس حقیقت سے واقف نہیں تھا میگزین نے اپنا دفتر بدل لیا ہے اور اب اس دفتر میں وہ لوگ کام کرتے ہیں جن کا خاکوں اور چارلی ہیبڈو سے دور دور تک کا واسطہ نہیں‘ دفتر کے سامنے چارلوگ کھڑے تھے‘ ظہیرحسن نے ان پر ٹوکے سے حملہ کر دیا‘حملے میں دو لوگ شدید زخمی ہو گئے‘ پولیس آئی اور اس نے ملزم کو گرفتار کر لیا‘ پولیس نے بعد ازاں ظہیرحسن کے مکان پر ریڈ کر کے اس کے پاکستانی روم میٹ بھی گرفتار کر لیے‘ یہ روز صبح گزرتے ہوئے ایک عربی دکان دار کے پاس بھی رکتا تھا‘ پولیس نے اسے بھی گرفتار کر لیا۔

ہم اب اگر ٹھنڈے دماغ کے ساتھ اس واقعے کا تجزیہ کریں تو تین چیزیں سامنے آئیں گی‘ پہلی چیز مذہب کے بارے میں مشرق اور مغرب کا رویہ ہے‘ ہم لوگ مذہب کے بارے میں جذباتی ہیں جب کہ یورپ کا مذہبی مزاج ہم سے بالکل الٹ ہے‘ یہ لوگ انبیاء کرام پر فلمیں اور ٹیلی ویژن ڈرامے تک بنا دیتے ہیں‘ حضرت عیسیٰ ؑ پر سیکڑوں فلمیں اور سیریز بن چکی ہیں‘ یہ سیریز اس وقت بھی نیٹ فلیکس پر موجود ہیں‘ عیسائی دنیا میں ایک بہت بڑا فرقہ موجود ہے جو خود کو حضرت عیسیٰ ؑ کی اولاد سمجھتا ہے۔

یورپی عیسائی پوری بائبل کو تصویری شکل میں چرچوں کی دیواروں اور گنبدوں پر پینٹ کرتے ہیں‘ دنیا کے ہر چرچ میں حضرت عیسیٰ ؑ کی صلیب پر لٹکی ہوئی شبیہہ موجود ہے‘ حضرت مریم ؑ کی پینٹنگ کے بغیر کوئی چرچ مکمل نہیں ہوتا‘ یہ لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کے (نعوذ باللہ) کارٹون تک بنا دیتے ہیں‘ نیٹ فلیکس نے ”مسایا“ کے نام سے حضرت عیسیٰ ؑ کی واپسی پر ایک سیزن تک بنا دیا‘ اس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے جب کہ ان کے مقابلے میں ہم انبیاء کرام کی شبیہہ کو توہین سمجھتے ہیں۔

یہ ایمان اور سوچ کا فرق ہے اور یہ فرق صرف مکالمے کے ذریعے ہی ایک دوسرے کو سمجھایا جا سکتا ہے لہٰذا ہمیں یورپ کی روایات کو ذہن میں رکھ کر ان لوگوں کو حقیقت سمجھانا ہوگی‘ پوری مسلم دنیا یہ ایشو اقوام متحدہ میں بھی اٹھا سکتی ہے اور یورپ میں آباد مسلمان یہ مسئلہ مقامی عدالتوں کے سامنے بھی لا سکتے ہیں اور سفارتی مشنز کے ذریعے بھی عیسائی دنیا کو اپنی روایات کے بارے میں بتا سکتے ہیں‘یہ مسئلہ پوری مسلم امہ کا ہے‘ یہ ایشو ظہیر حسن جیسے نوجوان اکیلے نہیں نمٹا سکیں گے۔

ہم اگر اسی طرح اکیلے کودتے رہے تو ہم اسے مزید الجھا لیں گے‘ پورا ویسٹرن میڈیا اکٹھا ہو جائے گا اور یہ لوگ مل کر یہ گستاخی کریں گے اور ہم پھر کس کس کا مقابلہ کریں گے چناں چہ میری ظہیر حسن جیسے نوجوانوں سے درخواست ہے یہ تہذیبوں کی لڑائی ہے اور آپ یہ لڑائی حکومتوں کولڑنے دیں‘ آپ اسے اپنے ہاتھ میں نہ لیں‘ دوسرا ہم تیسری دنیا کے مسلمان خوف ناک فکری مغالطے کا شکار ہیں‘ ہمیں شخصی آزادیوں‘ انصاف‘ صاف ستھرے ماحول‘ ترقی کے برابر مواقع اور مضبوط معیشت کی وجہ سے یورپی ملک بہت اچھے لگتے ہیں لہٰذا ہم جان پر کھیل کر غیرقانونی طریقے سے یورپ پہنچ جاتے ہیں۔

ہم ان ملکوں کی سہولتوں کا بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہم ان کی روایات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے‘ ہم خود گوریوں سے شادی کر لیں گے‘ ان سے اولاد بھی پیدا کر لیں گے لیکن ہم اپنی بیٹیوں کو گوروں کے ساتھ برداشت نہیں کریں گے‘ ہم چرچ خرید کر مسجد بنا لیں گے لیکن لاؤڈ اسپیکر کے بارے میں مقامی قانون تسلیم نہیں کریں گے‘ ہم یورپ میں 12 ربیع الاول بھی منائیں گے اور عزاداری اور ماتم بھی کر لیں گے لیکن ان کی مذہبی آزادی کو تسلیم نہیں کریں گے لہٰذا ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا یورپ اچھا ہے یا برا ہے‘ ہمیں اگر ان کی روایات پسند نہیں ہیں تو پھر ہم وہاں جاتے کیوں ہیں‘ ہم منڈی بہاؤالدین میں کیوں نہیں رہتے؟۔

ہمیں یورپ کو ماننا ہوگا یا پھر مکمل رد کرنا ہوگا‘ ہم زیادہ دیر تک اس فکری مغالطے میں نہیں رہ سکیں گے اور تین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے مگر ہم پاکستانی مسلمانوں نے رواداری‘ شائستگی‘ علم‘ انصاف اور ترقی کا اسلام چھوڑ کر انتہا پسندی اپنا لی ہے‘ ہم متحارب مسلمان مشہور ہوتے جا رہے ہیں اور ہم ہر وقت مرنے اور مارنے کے لیے تیار رہتے ہیں‘ آپ دنیا کے ہیروز کی کوئی فہرست نکال لیں اور پھر اپنے ہیروز کی فہرست اس کے سامنے رکھ دیں‘ ہماری فہرست محمد بن قاسم سے سٹارٹ ہو گی اور ٹیپو سلطان پر ختم ہو گی۔

اس میں کوئی سائنس دان‘ مصور‘ پروفیسر اور موسیقار نہیں ہوگا‘بے شک یہ فوجی ہیروز بھی بہت اہم ہیں لیکن ان سے زیادہ اہم وہ چار مسلمان سائنس دان ہیں جنہوں نے دنیا میں کیلی گرافی‘ ٹیلی سکوپ‘ الجبرا اور انسائیکلوپیڈیا کی بنیاد رکھی تھی‘ محمد بن قاسم کے ساتھ ساتھ وہ الخوارزمی بھی اہم تھا جس نے دنیا میں الجبرا کی بنیاد رکھی تھی‘ الفارابی بھی اہم تھا جس نے خلاء پرتحقیق کی‘ جس نے ریاضی‘ طب‘ فلسفہ اور موسیقی پر کام کیا‘ ہماری تاریخ میں محمود غزنوی کے ساتھ ساتھ الباطنی بھی تھا جس نے موسموں اور سال کی طوالت طے کی تھی۔

ابن سینا بھی تھا جس نے دنیا کو ادویات کا فن دیا تھا‘ ابن بطوطہ بھی تھا جس نے فن سیاحت کی بنیاد رکھی تھی‘ ابن رشد بھی تھا جس نے ارسطو اور افلاطون کو دنیا میں متعارف کرایا تھا‘ عمر خیام بھی تھا جس نے علم نجوم کو باقاعدہ سائنس بنایا تھا‘ ابن قرا بھی تھا جس نے شماریات کی بنیاد رکھی تھی‘ ابن رازی بھی تھا جس نے فزکس کی بنیاد رکھی تھی‘ جابر بن حیان بھی تھا جس نے کیمسٹری متعارف کرائی تھی‘الکندی بھی تھا جس نے ریاضی‘طبیعیات‘ فلسفہ‘ ہیت‘موسیقی‘طب اور جغرافیہ جیسے علوم پر اعلیٰ پائے کی کتب تحریر کیں۔

ابن حاتم بھی تھا جس نے سائنس کو عملی علم بنایا تھا‘ ابن ظہور بھی تھا جس نے سرجری متعارف کرائی تھی‘ ابن خلدون بھی تھا جس نے تاریخ کو سائنس کی شکل دی تھی اور ابن عربی بھی تھا جس نے روحانیت کو سائنس بنا دیا تھا لیکن آپ آج کسی پاکستانی نوجوان سے ان مفکرین کے بارے میں پوچھ لیں یہ ان کے ناموں تک سے واقف نہیں ہوں گے جب کہ ہمارا بچہ بچہ متحارب کمانڈروں کا پورا شجرہ جانتا ہو گا لہٰذا ہمیں ماننا ہوگا علم کا یہ فرق ہمارے معاشرے میں ظہیرحسن جیسے نوجوان پیدا کر رہا ہے‘ ایسے نوجوان جو چارلی ہیبڈوکے سابق دفتر کے سامنے کھڑے بے گناہ لوگوں پر بھی حملہ کر دیتے ہیں۔ہمیں جاگنا ہوگا‘ اس سے پہلے کہ ہم اٹھنے کے قابل ہی نہ رہیں۔